المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. حفت الجنة بالمكاره
جنت کو مشقتوں سے گھیر دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 72
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا محمد بن عُبيد الله (2) بن مرزوق، حدثنا عفَّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لما خَلَقَ اللهُ الجنةَ قال: يا جبريلُ، اذهَبْ فانظُرْ إليها، قال: فذهب فنَظَرَ إليها، فقال: لا يَسمَعُ بها أحدٌ إِلّا دخلها، ثم حَفَّها بالمَكارِه، ثم قال: اذهَبْ فانظُرْ إليها (1) ، فقال: وعِزَّتِك لقد خَشِيتُ أن لا يدخلَها أحد، ثم خَلَقَ النارَ، فقال: يا جبريل، اذهبْ فانظُرْ إليها، قال: فنظرَ إليها، فقال: لا يسمعُ بها أحد فيَدخُلَها، قال: فحَفَّها بالشَّهوات، ثم قال: اذهبْ فانظُرْ إليها، قال: فذهب فنظرَ إليها، فقال: يا ربِّ، وعزِّتِك لقد خَشِيتُ أن لا يبقى أحدٌ إلَّا دخلها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 72 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 72 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، پس وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر عرض کیا: جو بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو جائے گا، پھر اللہ نے اسے ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا، پھر فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، تو انہوں نے عرض کیا: تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل نہیں ہو پائے گا، پھر اللہ نے آگ (دوزخ) کو پیدا کیا اور فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، پس انہوں نے اسے دیکھا اور عرض کیا: جو اس کے بارے میں سن لے گا وہ اس میں (کبھی) داخل نہیں ہوگا، پھر اللہ نے اسے شہوات (نفسانی خواہشات) سے ڈھانپ دیا اور فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، پس وہ گئے اور اسے دیکھا تو عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اب مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 72]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 72 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عَبد الله مكبَّرًا، والتصويب من "إتحاف المهرة" للحافظ ابن حجر (20615) ومن مصادر ترجمته كـ "تاريخ بغداد" 3/ 569 و"تاريخ الإسلام" و"ميزان الاعتدال" وغيرها.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں لفظ کی تحریف ہوگئی ہے اور "عُبید اللہ" (تصغیر) کے بجائے "عبد اللہ" (مکبر) لکھ دیا گیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس کی درستی حافظ ابن حجر کی کتاب "اتحاف المہرہ" (20615) اور راوی کے حالاتِ زندگی پر مشتمل دیگر کتب مثلاً "تاریخ بغداد" (3/569)، "تاریخ الاسلام" اور "میزان الاعتدال" وغیرہ سے ہوتی ہے۔
(1) زاد في المطبوع: "قال: فذهب فنظر إليها"، وهي ثابتة أيضًا في مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: "اس نے کہا: پس وہ گیا اور اس (جنت) کی طرف دیکھا"، اور یہ اضافہ تخریج کے دیگر مصادر میں بھی ثابت ہے۔
(2) إسناده حسن كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند گزشتہ روایت کی طرح "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8648)، وأبو داود (4744) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 14/(8648) میں اور امام ابوداؤد نے (4744) میں حماد بن سلمہ کے دو مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (8398)، والترمذي (2560)، والنسائي (4684) من طرق عن محمد بن عمرو، به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8398)، ترمذی (2560) اور نسائی (4684) نے محمد بن عمرو بن علقمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرج البخاري (6487)، ومسلم (2823) من طريق أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "حُجِبت النار بالشَّهوات، وحُجِبت الجنة بالمكاره".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (6487) اور امام مسلم (2823) نے ابوالزناد عن الاعرج عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جہنم کو خواہشات کے پردوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں (مشقتوں) سے ڈھانپا گیا ہے"۔