المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند فرماتا ہے
حدیث نمبر: 7372
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بكر بن سَوَادة، أن سفيان بن وَهْب حدَّثه عن أبي أيوب الأنصاريِّ: أنه أرسلَ إلى رسول الله ﷺ بطعامٍ من خَضِرةٍ، فيه بصلٌ أو كُرَّاث، فلم يَرَ فيه أثرَ رسولِ الله ﷺ، فأَبى أن يأكلَه، فقال له رسول الله ﷺ:"ما يَمنُعك أن تأكلَ؟" قال: لم أرَ أثرَ رسولِ الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: أستَحْيي من ملائكةِ الله تعالى وليس بمُحرَّمٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7189 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7189 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سبزیاں بھیجیں جن میں پیاز یا گندنا (لہسن کی مشابہت رکھنے والی سبزی) تھی، جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ تناول نہیں فرمایا تو انہوں نے بھی اسے کھانے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں اسے کھانے سے کیا چیز روک رہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کا اثر نہیں پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کے فرشتوں سے حیا کرتا ہوں (جو میرے پاس وحی لے کر آتے ہیں) جبکہ یہ (پیاز وغیرہ کھانا) حرام نہیں ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7372]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7372]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ابن وهب: هو عبد الله. وأخرجه ابن حبان (2092) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (38/ (23525) و (23537)، ومسلم (2003) (170)، والنسائي (6596)، من طريق سماك، عن جابر بن سمرة، عن أبي أيوب بنحوه.» [ترقيم الرساله 7372] [ترقيم الشركة 7285] [ترقيم العلميه 7189]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7372 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح ابن وهب: هو عبد الله. وأخرجه ابن حبان (2092) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (38/ (23525) و (23537)، ومسلم (2003) (170)، والنسائي (6596)، من طريق سماك، عن جابر بن سمرة، عن أبي أيوب بنحوه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2092) نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے عبد اللہ بن وہب سے روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (38/ 23525، 23537)، امام مسلم (2003/ 170) اور امام نسائی (6596) نے اسے سماک کے طریق سے، انہوں نے جابر بن سمرة سے، انہوں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد (23517)، ومسلم (2053) (171) من طريق أفلح مولى أبي أيوب، وأحمد (23507)، والنسائي (5996) و (6595) من طريق جبير بن نفير، وأحمد (23504) من طريق أبي عبد الرحمن الحبلي، و (23526) من طريق أبي سَوْرة، و (23570) من طريق أبي، رُهم، خمستهم عن أبي أيوب.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مطول (تفصیلی) اور مختصر طور پر ان ذرائع سے بھی مروی ہے: امام احمد (23517) اور مسلم (2053/ 171) نے "افلح مولیٰ ابی ایوب" کے طریق سے؛ امام احمد (23507) اور نسائی (5996، 6595) نے "جبیر بن نفیر" کے طریق سے؛ امام احمد (23504) نے "ابو عبد الرحمن الحبلی"؛ (23526) میں "ابو سورہ"؛ اور (23570) میں "ابو رُہم" کے طریق سے۔ یہ پانچوں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7372 in Urdu