المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند فرماتا ہے
حدیث نمبر: 7371
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا أحمد بن الخليل، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا همّام عن قَتَادةَ، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"كُلُوا واشْرَبُوا وتصدَّقوا في غير سَرَفٍ ولا مَخِيلةٍ، إِنَّ الله تعالى يُحِبُّ أن يُرَى أثرُ نعمتِه على عبدِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7188 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7188 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ، پیو اور صدقہ کرو بشرطیکہ اس میں فضول خرچی اور تکبر نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے پر (ظاہری طور پر) نظر آئے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7371]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7371]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. همام: هو ابن يحيى العوذي.» [ترقيم الرساله 7371] [ترقيم الشركة 7284] [ترقيم العلميه 7188]
الحكم على الحديث: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7372
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بكر بن سَوَادة، أن سفيان بن وَهْب حدَّثه عن أبي أيوب الأنصاريِّ: أنه أرسلَ إلى رسول الله ﷺ بطعامٍ من خَضِرةٍ، فيه بصلٌ أو كُرَّاث، فلم يَرَ فيه أثرَ رسولِ الله ﷺ، فأَبى أن يأكلَه، فقال له رسول الله ﷺ:"ما يَمنُعك أن تأكلَ؟" قال: لم أرَ أثرَ رسولِ الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ: أستَحْيي من ملائكةِ الله تعالى وليس بمُحرَّمٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7189 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7189 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سبزیاں بھیجیں جن میں پیاز یا گندنا (لہسن کی مشابہت رکھنے والی سبزی) تھی، جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ تناول نہیں فرمایا تو انہوں نے بھی اسے کھانے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہیں اسے کھانے سے کیا چیز روک رہی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کا اثر نہیں پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کے فرشتوں سے حیا کرتا ہوں (جو میرے پاس وحی لے کر آتے ہیں) جبکہ یہ (پیاز وغیرہ کھانا) حرام نہیں ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7372]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7372]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، ابن وهب: هو عبد الله. وأخرجه ابن حبان (2092) من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (38/ (23525) و (23537)، ومسلم (2003) (170)، والنسائي (6596)، من طريق سماك، عن جابر بن سمرة، عن أبي أيوب بنحوه.» [ترقيم الرساله 7372] [ترقيم الشركة 7285] [ترقيم العلميه 7189]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح