المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. إن الله لعن الخمر وشاربها
بے شک اللہ نے شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت فرمائی ہے
حدیث نمبر: 7414
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني عبد الرحمن بن شُريح [وابن لَهِيعة والليث بن سعد، عن خالد بن يزيد عن ثابت بن يزيد] (4) الخولاني: أنه كان له عَمٌّ يبيعُ الخمرَ، وكان يتصدَّقُ بثمنه، فنهيتُه عنها فلم يَنتَهِ، فقدمت المدينةَ فلقيتُ ابنَ عباس، فسألتُه عن الخمر وثمنها، فقال: هي حرامٌ، وثمنُها حرامٌ، ثم قال: يا معشرَ أمّة محمد ﷺ، إنه لو كان كتابٌ بعدَ كتابِكم، أو نبي بعد نبيِّكم، لأنزِلَ فيكم كما أُنزلَ فيمن كان قبلكم، ولكن أخَّر ذلك من أمركم إلى يوم القيامة، ولعمري لهو أشدُّ عليكم. قال: فأَبيتُ، ثم لقيتُ عبدَ الله بن عمر، فسألتُه عن ثمن الخمر، فقال: سأخبرك عن الخمر، إنِّي كنتُ عندَ رسول الله ﷺ في المسجد، فبينما هو مُحتَبي حلَّ حُبُوتَه، ثم قال:"مَن كان عندَه من هذا الخمر شيءٌ، فلْيُؤذِنِّي به" فجعل الناسُ يأتونه، فيقول أحدُهم: عندي راويةُ خمر، ويقول الآخر: عندي راويةٌ، ويقول الآخر: عندي زِقٌّ، أو ما شاء الله أن يكون عنده، فقال رسول الله ﷺ:"اجمَعُوه ببقيع كذا وكذا، ثم آذِنُوني"، ففعلوا ثم آذَنُوه، قال: فقمتُ فمَشيتُ وهو متّكئٌ عليَّ، فلَحِقَنا أبو بكر، فأخذني رسول الله ﷺ فجعلني عن يسارِه وجعل أبا بكر مكاني، ثم لحقنا عمر، فأخذني وجعلني عن يسارِه، فمشَى بينَهما حتى إذا وقفَ على الخمرِ قال للناس:"أتعرفون هذه؟" قالوا: نعم يا رسولَ الله، هذه الخمر، قال:"صدقتُم" ثم قال:"إنَّ الله تعالى لعنَ الخمرَ وعاصرَها ومُعتصِرَها، وشاربَها وساقِيَها، وحاملَها والمحمولَة إليه، وبائعَها ومُشتريَها، وأكلَ ثمنِها ثم دعا بسكِّين، فقال:"اشحَذُوها" ففعلوا، ثم أخذَها رسول الله ﷺ يُخَرِّقَ بها الزِّقاق، فقال الناسُ: إِنَّ في هذه الزِّقاق منفعةً، فقال:"أجَلْ، ولكن إنما أفعلُ غضبًا لله لما فيها من سَخَطِه"، فقال عمر: أنا أكَفيكَ يا رسولَ الله، قال:"لا". وبعضهم يزيدُ على بعض في الحديث (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7228 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7228 - صحيح
عبدالرحمن بن شریح خولانی بیان کرتے ہیں کہ ان کا چچا شراب بیچا کرتا تھا، اور اس کے منافع میں سے کچھ رقم صدقہ بھی کیا کرتا تھا، میں نے اس کو اس کام سے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا، میں مدینہ منورہ آیا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا، میں نے ان سے شراب اور اس کی کمائی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: شراب بھی حرام ہے اور اس کی کمائی بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو! اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب ہوتی یا تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی ہوتا تو تمہارے اندر بھی اسی طرح احکام نازل ہوتے جیسے تم سے پہلے لوگوں میں نازل ہوئے، لیکن تمہارا معاملہ قیامت تک کے لئے موخر کر دیا گیا ہے (اب قیامت تک نہ کوئی اور کتاب نازل ہو گی اور نہ کوئی نبی آئے گا)، اور یہ تمہارے اوپر زیادہ سخت ہے۔ آپ فرماتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے شراب کی کمائی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا، آپ چادر لپیٹے بیٹھے تھے، آپ نے چادر کو کھولا اور پھر فرمایا، جس کسی کے پاس تھوڑی سی بھی شراب ہو وہ مجھے اطلاع دے، لوگ آ آ کر بتانے لگے، کوئی کہتا: میرے پاس شراب کا ایک مٹکا ہے، دوسرا کہتا ہے: میرے پاس بھی مٹکا ہے، کوئی کہتا: میرے پاس اتنی شراب ہے، الغرض جس کے پاس جو تھا، اس نے آ کر بتا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب اپنی اپنی شراب بقیع میں فلاں جگہ پر جمع کرو اور پھر مجھے بتاؤ، سب نے ایک جگہ پر شراب جمع کی اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ راوی کہتے ہیں: میں اٹھ کر چل دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ٹیک لگائے چل پڑے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ہمراہ ہو لئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے بائیں جانب کر لیا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو میری جگہ کر لیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ آ گئے، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنے بائیں جانب کر لیا اور خود میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گئے، ہم چلتے چلتے اس (جمع شدہ) شراب کے پاس جا پہنچے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس چیز کو پہچانتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ شراب ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سچ کہہ رہے ہو، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے شراب پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے بنوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھائی گئی اس پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اور اس کی کمائی کھانے والے پر۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری منگوائی اور فرمایا: اس کو چیر ڈالو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو چیز دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر شراب کے برتن توڑ ڈالے، لوگوں نے کہا: یہ برتن تو کام کے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن میں نے اللہ کی رضا مندی کے لئے غصے میں ایسا کیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی طرف سے یہ کام میں کر دیتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث میں بعض راویوں نے دیگر بعض کی بہ نسبت الفاظ زیادہ بیان کئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7414]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7414 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) ما بين المعقوقين سقط من نسخنا الخطية واستدركناه من "السنن الكبرى" و "شعب الإيمان" كلاهما للبيهقي، حيث رواه عن شيخين له عن أبي العباس محمد بن يعقوب بإسناده، وأشار الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 8/ 281 إلى أنه كذلك في كتاب الأشربة من "موطأ ابن وهب".
🔍 فنی نکتہ / علّت: قوسین (بریکٹ) کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے امام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" اور "شعب الایمان" سے مکمل کیا ہے۔ بیہقی نے اسے اپنے دو شیوخ کے واسطے سے ابو العباس محمد بن یعقوب کی سند سے روایت کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرۃ" 8/ 281 میں اشارہ کیا ہے کہ یہ اسی طرح ابن وہب کی "موطا" کی کتاب الاشربہ میں بھی موجود ہے۔
(1) إسناده محتمل للتحسين في المتابعات والشواهد من أجل ثابت بن يزيد الخولاني، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع على بعض. وأما قصة لعن الخمر وعاصرها ومعتصرها … إلخ، فهي صحيحة كما يأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کی روشنی میں یہ سند "حسن" قرار پانے کا احتمال رکھتی ہے، کیونکہ اس میں ثابت بن یزید الخولانی موجود ہیں جن سے دو راویوں نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، نیز ان کی بعض حصوں پر متابعت بھی موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: جہاں تک شراب اور اس کے نچوڑنے والے وغیرہ پر لعنت کا قصہ ہے، تو وہ آگے آنے والی تفصیل کے مطابق "صحیح" ہے۔
وأخرجه البيهقي في السنن الكبرى 8/ 287، وفي "الشعب" (5195) من طريق أبي العباس محمد بن يعقوب بهذا الإسناد. ورواية "الشعب" مختصرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" 8/ 287 اور "شعب الایمان" (5195) میں ابو العباس محمد بن یعقوب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، البتہ "شعب الایمان" کی روایت مختصر ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح المشكل" (3342) عن يونس بن عبد الأعلى، عن ابن وهب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (3342) میں یونس بن عبد الاعلیٰ کے طریق سے، انہوں نے ابن وہب سے روایت کیا ہے۔
وتصحف فيه البقيع إلى: النقيع!
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں لفظ "البقیع" تصحیف (لکھنے کی غلطی) ہو کر "النقيع" ہو گیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي (3343 م) من طريق طلق بن السمح اللخمي، عن عبد الرحمن بن شريح، عن خالد بن يزيد، عن شراحيل بن بكيل، عن ابن عمر. وطلقٌ روى عنه جمع ولم يؤثر توثيقه عن أحد، وقد خالف في إسناده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے (3343 م) میں طلق بن السمح اللخمی کے طریق سے، انہوں نے عبدالرحمن بن شریح سے، انہوں نے خالد بن یزید سے، انہوں نے شراحیل بن بکیل سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: طلق بن السمح سے اگرچہ ایک جماعت نے روایت کی ہے، مگر ان کی توثیق کسی سے منقول نہیں، اور انہوں نے اس کی سند میں مخالفت بھی کی ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5390) عن حسن بن موسى الأشيب، والطحاوي (3343)، والبيهقي في "السنن" (8/ 287) من طريق عبد الله بن وَهْب كلاهما عن ابن لهيعة، عن أبي طعمة، عن ابن عمر بنحوه. وسنده حسن فرواية ابن وهب عن ابن لهيعة صالحة، وأبو طعمة روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 9/ (5390) میں حسن بن موسیٰ الاشیب سے، جبکہ طحاوی نے (3343) اور بیہقی نے "السنن" (8/ 287) میں عبداللہ بن وہب کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (حسن الاشیب اور ابن وہب) ابن لہیعہ سے، وہ ابو طعمہ سے اور وہ حضرت ابن عمر سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے کیونکہ ابن وہب کی ابن لہیعہ سے روایت قابلِ قبول (صالح) ہوتی ہے، اور ابو طعمہ سے بھی ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وسلفت قصة لعن الخمر عند المصنف برقم (2266) من حديث ابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: شراب پر لعنت کا قصہ مصنف کے ہاں پہلے نمبر (2266) پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں گزر چکا ہے۔
وستأتي من حديث ابن عباس في الحديث التالي.
📌 اہم نکتہ: یہ قصہ اگلی حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے بھی آئے گا۔