المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. من قال مثل ما يقول المؤذن يقينا دخل الجنة
جو شخص یقین کے ساتھ مؤذن کے کلمات دہرائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 746
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن الأشجِّ، عن علي بن خالد الدُّؤلي، عن النضر بن سفيان الدُّؤَلي أنه حدَّثه، أنه سمع أبا هريرة، يقول: كنَّا مع رسول الله ﷺ، فقام بلالٌ ينادي، فلما سَكَتَ قال رسول الله ﷺ:"مَن قال مثلَ هذا يقينًا، دخل الجنةَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 735 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 735 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ اذان دینے کے لیے کھڑے ہوئے، جب وہ خاموش ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یقین کے ساتھ اسی طرح (کے کلمات) کہے، وہ جنت میں داخل ہو گیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 746]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 746]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 746 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل علي بن خالد والنضر بن سفيان. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 14 (8624)، والنسائي (1653)، وابن حبان (1667) من طرق عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند علی بن خالد اور نضر بن سفیان کی وجہ سے 'حسن' ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 14/ (8624)، نسائی (1653) اور ابن حبان (1667) نے مختلف طرق سے عبد اللہ بن وہب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔