🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ
تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7466
حدثنا إبراهيم بن فِراس الفقيه بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا بكر بن سهل، حدثنا محمد بن بكّار بن بلال، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادةَ، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ: قال:"مكتوبٌ في التوراة: مَن سرَّه أن تطولَ حياتُه، ويُزادَ في رزقه، فليصِلْ رَحِمَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث يونس بن يزيد عن الزُّهْري عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7279 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تورات میں لکھا ہے: جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کی زندگی لمبی ہو اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے، اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔
یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف یونس بن یزید کی زہری سے اور انہوں نے سیدنا انس سے روایت کردہ حدیث پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7466]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف بكر بن سهل وسعيد بن بشير» [ترقيم الرساله 7466] [ترقيم الشركة 7375] [ترقيم العلميه 7279]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف بكر بن سهل وسعيد بن بشير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بکر بن سہل اور سعید بن بشیر کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه البزار (1880 - كشف الأستار)، والطبراني في "الكبير" (11822)، و "مسند الشاميين" (2634)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 27/ 403 و 5/ 378 من طريقين عن محمد بن بكار بن بلال بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (1880 - کشف الاستار)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (11822) اور "مسند الشامیین" (2634)، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (27/ 403 اور 5/ 378) میں دو طریقوں سے محمد بن بکار بن بلال سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7466 in Urdu