🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُوا بِهِ أَرْحَامَكُمْ
اپنے نسب کے بارے میں اتنا ضرور جانو جس سے تم صلہ رحمی کر سکو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7471
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، عن عبد الملك بن عيسى الثقفي، عن يزيد مولى المنبعث، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال:"تَعلَّموا من أنسابكم ما تَصِلُون (2) به أرحامكم، فإنَّ صِلةَ الرَّحِم مَحبَّةٌ في الأهل، مَثْراةٌ في المال، مَنْسَأةٌ في الأَثَر" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7284 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے نسبوں سے اتنا ضرور سیکھو جس کے ذریعے تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی خاندان میں محبت کا سبب، مال میں اضافے کا ذریعہ اور انسان کی عمر و ذکرِ خیر میں اضافے کا باعث ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7471]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الملك بن عيسى الثقفي» [ترقيم الرساله 7471] [ترقيم الشركة 7380] [ترقيم العلميه 7284]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7471 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: تصلوا، بحذف النون، والجادة ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "تصلوا" (نون کے حذف کے ساتھ) ہے، جبکہ عام قاعدے کے مطابق وہی درست ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے (یعنی "تصلون")۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الملك بن عيسى الثقفي. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزاري، وعبدان هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عبد الملک بن عیسیٰ الثقفی کی وجہ سے حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سند میں "ابو الموجِّہ" سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں، "عبدان" سے مراد عبد اللہ بن عثمان المروزی ہیں، اور "عبد اللہ" سے مراد عبد اللہ بن المبارک ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8868)، والترمذي (1979) من طريقين عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: غريب من هذا الوجه، ومعنى قوله: "منسأة في الأثر" يعني: زيادة في العمر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8868) اور ترمذی (1979) نے دو طریقوں سے عبد اللہ بن المبارک سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث اس طریق سے "غریب" ہے۔ قول "منسأۃ فی الأثر" کا مطلب ہے: عمر میں زیادتی۔
وأخرج البخاري (5985) من طريق سعيد المقبري، عن أبي هريرة مرفوعًا: "من سرّه أن يُنسأ له في أثره، ويُبسَط له في رزقه، فليصل رحمه".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (5985) نے سعید المقبری کے طریق سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے: "جسے یہ پسند ہو کہ اس کی عمر دراز کی جائے اور اس کے رزق میں کشادگی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرے"۔
وسلف أول الحديث برقم (306) من طريق أبي سلمة عن أبي هريرة.
📌 اہم نکتہ: اس حدیث کا ابتدائی حصہ پہلے نمبر (306) پر ابو سلمہ عن ابی ہریرہ کے طریق سے گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7471 in Urdu