المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. لا يطوف أحد بالبيت عريان
کوئی شخص بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہ کرے
حدیث نمبر: 7541
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي. وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن أبي نصر المروَزيّ، قالا: أخبرنا محمد بن غالب، حدّثنا أبو حُذيفة، حدّثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبيَّ ﷺ بعثه يومَ الحجّ الأكبر بأربع: أن لا يطوفَ أحدٌ بالبيت عُرْيان، ولا يدخلَ الجنَّةَ إلا نفسٌ مُسلِمة، ولا يَحُجَّ مشركٌ بعد عامِه هذا، ومن كان بينه وبينَ رسولِ الله ﷺ، عهدٌ، فأجَلُه إلى مُدَّتِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7354 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7354 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حج اکبر کے موقع پر چار چیزوں کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا۔ 1۔ کوئی شخص برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ 2۔ جنت میں مسلمان کے سوا کوئی نہیں جا سکتا۔ 3۔ اس سال کے بعد کبھی کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔ 4۔ جس شخص (یا قبیلے) کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے، وہ سب ایک معینہ مدت تک ہے (اس مدت کے گزرنے کے بعد تمام معاہدے کالعدم سمجھے جائیں گے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی (درج ذیل) حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7541]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7541 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل زيد بن يثيع - ويقال: أُثيع - كما تقدم بيانه برقم (4424) حيث رواه المصنّف من طريق سفيان بن عيينة عن أبي إسحاق السَّبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور ان شاء اللہ یہ سند زید بن یثیع (جنہیں اثیع بھی کہا جاتا ہے) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جیسا کہ اس کا بیان نمبر (4424) میں گزر چکا ہے جہاں مصنف نے اسے سفیان بن عیینہ کے طریق سے ابو اسحاق سبیعی سے روایت کیا تھا۔
أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهديّ، وسفيان شيخه: هو ابن سعيد الثَّوري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو حذیفہ سے مراد "موسیٰ بن مسعود نہدی" ہیں اور ان کے شیخ سفیان سے مراد "سفیان بن سعید ثوری" ہیں۔