🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ
جب اللہ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس (کی نعمت) کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7551
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي (3) ببغداد، حدّثنا العباس بن الدُّوري، حدّثنا وهب بن جَرير، حدّثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، قال: سمعتُ أبا الأحوص يُحدِّث عن أبيه قال: أتيتُ النبيّ ﷺ وأنا قَشِفُ الهيئة، قال:"هل لك من مال؟" قلتُ: نعم، قال:"مِن أيِّ المال؟" قلتُ: من كلِّ المال من الإبل والرّقيق والخيل والغَنَم، قال:"فإذا آتاك اللهُ مالًا فليُرَ عليك" ثم قال:"هل تُنتَجُ إبلُ قومِك صِحاحٌ آذانُها فتَعْمِدُ إلى الموسى فتقطعُ آذانها فتقول: هذه بَحِيرةٌ، وتشقُّها - أو تشقُّ جلودَها - وتقول: هذه صُرُمٌ، فتحرِّمُها عليك وعلى أهلك؟" قال: نعم، قال:"فإنَّ ما أعطاك الله لك حِلٌّ، موسى اللهِ أَحدُّ" وربما قال:"ساعدُ اللهِ أَشدُّ من ساعدك، وموسى اللهِ أحدُّ من مُوساك"، قلتُ: يا رسول الله، أرأيت رجلًا نزلتُ به فلم يُكرِمْني ولم يَقْرِنيّ، ثم نَزَلَ بي، أَجزِيهِ كما صنع، أو أقرِيهِ؟ قال:"أَقْرِهِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7364 - صحيح
سیدنا ابواحوص اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میری حالت پراگندہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال ہے، اونٹ، غلام، گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جب اللہ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے اونٹوں سے صحیح سالم کانوں والے بچے پیدا ہوتے ہیں تو تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ «بَحِيرةٌ» ہے، اور تم ان کے کان یا کھالیں چیر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ «صُرُمٌ» ہیں، پھر انہیں اپنے اور اپنے گھر والوں پر حرام کر لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے، اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے (یعنی اللہ کے احکام تمہاری خود ساختہ رسموں پر غالب ہیں)۔ کبھی (راوی) یوں کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قوت تمہاری قوت سے زیادہ ہے اور اللہ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان بنوں اور وہ میری مہمانی نہ کرے، پھر وہ میرے پاس مہمان بن کر آئے، تو کیا میں اس کے ساتھ وہی سلوک کروں جو اس نے میرے ساتھ کیا یا میں اس کی مہمانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں) بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7551] [ترقيم الشركة 7460] [ترقيم العلميه 7364]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7551 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف في (ص) و (م) إلى: الحليمي.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الحلیمی" بن گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعيّ، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك بن نضلة الجُشمي. وسلف برقم (65).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" اور ابو الاحوص سے مراد "عوف بن مالک بن نضلہ جشمی" ہیں۔ یہ روایت نمبر (65) پر گزر چکی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7551 in Urdu