المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. إذا آتاك الله مالا فلير عليك
جب اللہ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس (کی نعمت) کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے
حدیث نمبر: 7550
فأخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدّثنا أحمد بن مِهْران، حدّثنا عبيد الله بن موسى، حدّثنا إسرائيل، أخبرنا أبو يحيى، قال: سمعتُ مجاهدًا يُحدِّث عن ابن عباس قال: مرَّ رسول الله ﷺ على رجل، فرأى فَخِذَه مكشوفةً، فقال:"غَطِّ فخذَك، فإِنَّ فَخِذَ الرجل من عورتِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا کہ وہ رانیں ننگی کیے ہوئے بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی رانیں ڈھک لو کیونکہ انسان کی ران بھی اس کی ستر میں شامل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7550]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7550 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد ليِّن، أبو يحيى - وهو القتّات - فيه ضعف. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ "حسن لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند کمزور (لین) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو یحییٰ (جو کہ قتات ہے) میں ضعف پایا جاتا ہے۔ اور اسرائیل سے مراد "ابن یونس سبیعی" ہیں۔
وأخرجه أحمد (4/ 2493) عن محمد بن سابق، والترمذيّ (2796) من طريق يحيى بن ادم، كلاهما عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (4/ 2493) نے محمد بن سابق سے، اور ترمذی (2796) نے یحییٰ بن آدم کے طریق سے کی ہے، یہ دونوں اسرائیل بن یونس سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔