المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. حَدِيثُ مُنَاظَرَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئب، عن القاسم بن عَبَّاس، عن نافع بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه، قال: يقولون: فِيَّ التِّيهُ، وقد ركبتُ الحمارَ، واعتَقَلتُ الشاةَ، وَلَبِستُ الشَّمْلةَ، وقد قال رسول الله ﷺ:"مَن فعلَ هذا فليس فيه شيءٌ من الكِبْر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7373 - صحيح
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ (میرے بارے میں) کہتے ہیں کہ مجھ میں تکبر ہے، حالانکہ میں گدھے پر سوار ہوا، میں نے بکری کو پکڑا (یا اس کا دودھ نکالا) اور میں نے معمولی کملی زیب تن کی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس نے یہ کام کیے (یعنی ایسی سادگی اختیار کی) اس میں تکبر کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7560]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7560]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة» [ترقيم الرساله 7560] [ترقيم الشركة 7469] [ترقيم العلميه 7373]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7560 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ابی ذئب سے مراد "محمد بن عبد الرحمن بن مغیرہ" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2001) عن علي بن عيسى البغدادي، عن شبابة بن سوَّار، بهذا الإسناد. وقال: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ترمذی (2001) نے علی بن عیسیٰ بغدادی سے، انہوں نے شبابہ بن سوار سے اسی سند کے ساتھ کی ہے اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
التِّيه، بالكسر، الكِبْر، والشملة، كساء يُتغطَّى به ويُتلفَّف به.
📝 نوٹ / توضیح: "التِّيه" (کسرہ کے ساتھ): اس کا مطلب تکبر ہے۔ "الشملة": وہ چادر جس سے جسم کو ڈھانپا اور لپیٹا جاتا ہے۔
واعتقال الشاة: أن يضع من يحلبُها رجلها بين ساقيه ثم يحلبها، ووقع في رواية الترمذي: احتلبتُ الشاة، والمؤدَّى واحد.
📝 نوٹ / توضیح: "اعتقال الشاۃ" کا مطلب ہے: بکری کا دودھ دوہنے والا اس کی ٹانگ کو اپنی پنڈلیوں کے درمیان دبا لے پھر دوہے، اور ترمذی کی روایت میں "احتلبتُ الشاۃ" (میں نے بکری دوہی) کے الفاظ ہیں، اور مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7560 in Urdu