🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. حَدِيثُ مُنَاظَرَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7554
فحدَّثناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى القُطَعي (2) ومحمد بن عبد الأعلى الصنعاني، قالا: حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا ابن عَوْن، عن عمرو بن سعيد، عن حُميد بن عبد الرحمن، قال: قال ابن مسعود: كنتُ لا أُحجَبُ - أو قال: كنتُ لا أُحبَسُ - عن ثلاث عن النَّجْوى، وعن كذا وكذا، قال: فأتيتُه وعنده مالكُ بن مُرَارة الرَّهَاوي، فأدركتُ من آخر حديثه وهو يقول: يا رسولَ الله، قد أُعطِيتُ من الجَمَال ما ترى، وما أُحبُّ أنَّ أحدًا يفوقَني بشِراك نَعْلي، أفذاك من البَغْي؛ قال:"ليس ذاكَ بالبَغْي (3) ولكنَّ البغيَ مَن بَطِرَ الحقَّ - أو قال: سَفِهَ الحقَّ - وغَمِطَ الناسَ" (4) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7367 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں تین چیزوں سے رک نہیں پاتا تھا۔ سرگوشی سے، اور فلاں فلاں چیز سے۔ آپ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان کی گفتگو کے آخری جملے سنے ہیں، وہ کہہ رہے تھے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خوبصورتی کا ایک حصہ دیا گیا ہے جیسا کہ آپ خود بھی دیکھ رہے ہیں، اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ کوئی شخص میرے جوتے کے تسمے کے معاملے میں بھی مجھ سے آگے نکلے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گناہ نہیں ہے۔ بلکہ تکبر کی وجہ سے حق کو ماننے سے انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا گناہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7554]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7555
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى المَدائني، حَدَّثَنَا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حَدَّثَنَا عِكْرمة بن عمّار العِجلي، حدثني أبو زُمَيل، حدثني عبد الله بن الدُّؤَل، حدثني عبد الله بن عباس قال: لما خرجتِ الحَرُوريَّةُ اجتمعوا في دارٍ وهُم (1) ستةُ آلاف، أتيتُ عليًّا فقلتُ: يا أميرَ المؤمنين، أبرِدْ بالصلاة، لعلِّي آتي هؤلاء القومَ فأُكلِّمَهم، قال: إنِّي أخافُ عليك، قال: قلتُ: كلّا، قال: فخرجتُ إليهم ولبستُ أحسن ما يكون من حُلَلِ اليمن - قال أبو زُميل: وكان ابن عباس جميلًا جهيرًا - قال ابن عَبَّاس: فأتيتُهم وهم مجتمِعون في دارٍ وهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، قالوا: مرحبًا بك يا ابنَ عباس، فما هذه الحُلَّة؟ قلتُ: ما تَعِيبُون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، وقرأتُ ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ؛ ثم ذكر مناظرةَ ابن عباس المشهورة معهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب حروریہ نے بغاوت کی، تو وہ لوگ ایک حویلی میں جمع ہو گئے، ان کی تعداد 6 ہزار تھی، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے امیرالمومنین! آپ نماز ذرا لیٹ پڑھائیے گا، میں ان لوگوں کے پاس جا کر مذاکرات کر کے آتا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تمہاری جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا: آپ مت گھبرائیے، آپ فرماتے ہیں: میں یمن کا انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب جبہ زیب تن کر کے ان کے پاس آ گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بہت خوبصورت حسین و جمیل جوان تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ان لوگوں کے پاس آیا، وہ لوگ ایک حویلی میں جمع تھے، اور وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ جبہ کہاں سے آیا؟ میں نے کہا: تم مجھے اس کی وجہ سے عیب لگاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ بلکہ سب سے بہترین جبہ پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر میں نے یہ آیت پڑھی، قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (الأعراف: 32) تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق، تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں، اور قیامت میں تو خاص انہیں کی ہے ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں علم والوں کے لیے (امام احمد رضا)۔ پھر اس کے بعد وہ مناظرہ ذکر کیا جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان لوگوں کے مابین ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7555]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7556
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العدل، حَدَّثَنَا محمد بن شاذان الجَوهَري، حَدَّثَنَا سعيد بن سليمان الواسطي، حَدَّثَنَا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار قال: قال جابر: خرجنا مع رسول الله ﷺ في بعض مَغازيهِ، فخرج رجلٌ في ثوبين مُنْخِرِقَينِ يريد أن يَسُوقَ بالإبل، فقال له رسول الله ﷺ:"ما له ثَوْبانِ غيرُ هذا (1) ؛" قيل: إِنَّ في عَيْبتِه ثوبين جديدين، قال:"ايتُونِ بعَيْبتِه"، ففتحها، فإذا فيها ثوبانِ، فقال للرجل:"خُذْ هذينِ فَالْبَسْهما وأَلْقِ المُنخرِقَين" ففعل، ثم ساق بالإبل، فنظر رسولُ الله ﷺ في أثره كالمتعجِّب من بُخلِه على نفسه بالثوبين، فقال له:"ضربَ الله عُنقَكَ" فالْتَفتَ إليه الرجلُ، فقال:"في سبيلِ الله"، فقُتل يوم اليَمَامة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في غير موضع بهشام بن سعد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ الحديث عند مالك عن زيد بن أسلم عن جابر:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے، ایک آدمی دو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس وہاں آیا، وہ اونٹ چرا رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس صرف یہی دو کپڑے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ اس تھیلے میں دو نئے کپڑے موجود ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا میرے پاس لاؤ، (اس کا تھیلا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا) جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھولا تو اس میں واقعی دو کپڑے موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا: یہ کپڑے لو، ان کو پہن لو اور پھٹے ہوئے کپڑے پھینک دو، اس نے ایسا ہی کیا، اور اپنے اونٹ ہانکتا ہوا چلا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پیچھے سے دیکھ رہے تھے اور اس بات پر بہت تعجب کر رہے تھے کہ یہ شخص کس قدر کنجوس ہے، صرف 2 کپڑے پہن کر پھر رہا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی گردن مارے، وہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب متوجہ ہوا اور کہا: اللہ کی راہ میں۔ چنانچہ وہ شخص جنگ یمامہ میں شہید ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مقام پر ہشام بن سعد کی روایت نقل کی ہے۔ اور مالک بن انس کی سند کے مطابق یہ حدیث زید بن اسلم کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7556]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7557
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصر قال: عبد الله بن وهب قال: أخبرني مالك بن أنس، عن زيد بن أسلم، عن جابر بن عبد الله (3) .
مذکورہ اسناد کے ہمراہ بھی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7557]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7558
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن سعد، عن قيس بن بِشْر التَّغْلِبي، قال: كان أبي جَليسًا لأبي الدَّرداء بدمشق، وكان بدمشقَ رجلٌ من أصحاب رسولِ الله ﷺ من الأنصار يقال له: ابن الحنظليَّة، وكان مُتوحِّدًا قلَّما يُجالِس الناسَ، إنما هو في صلاةٍ، فإذا انصرف فإنما هو تكبيرٌ وتسبيحٌ وتهليلٌ حتَّى يأتيَ أهلَه، فمرَّ بنا يومًا ونحن عند أبي الدرداءِ فسَلَّم، فقال أبو الدرداءِ: كلمةً تَنفعُنا ولا تضرُّك، فقال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّكم قادِمونَ على إخوانِكم، فأحسِنُوا لِباسَكم، وأصلِحُوا رِحالَكم، حتَّى تكونوا كأنكم شامَةٌ في الناس، إنَّ الله لا يُحِبُّ الفُحْشَ والتفحُّشَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وابنُ الحنظلية الذي لم يُسمِّه الراوي (2) هو سهلُ بن الحَنظَلية، من زُهّاد الصحابة رِضوان الله عليهم أجمعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7371 - صحيح
سیدنا قیس بن بشر تغلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد محترم دمشق میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، وہاں پر ایک انصاری صحابی بھی رہتے تھے، ان کو ابن الحنظلیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا، وہ اکیلے رہنا پسند کرتے تھے، لوگوں کی مجلس میں بہت کم بیٹھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو گھر واپس جانے تک مسلسل تکبیر و تہلیل اور تسبیح میں مصروف رہتے۔ ایک مرتبہ وہ ہمارے پاس سے گزرے، ہم سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے (سلام کا جواب دینے کے بعد) فرمایا: ایک ایسی بات ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور تمہارے لیے ذرا بھی نقصان دہ نہیں ہے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ گے، تم اپنے لباس اچھے رکھنا، اپنی سواریوں کا خیال کرنا، حتیٰ کہ تم لوگوں میں تل کی مانند ہو جاؤ، (یعنی جس طرح تل، جسم پر واضح ہوتا ہے، اسی طرح تم بھی انسانوں میں اتنے صاف ستھرے رہو کہ تم سب سے الگ تھلگ اور واضح نظر آؤ۔) بے شک اللہ تعالیٰ فحاشی کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی فحاشی پسند کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابن الحنظلیہ کا نام رہاوی نے ان کا نام ذکر نہیں کیا۔ ان کا نام سہل بن الحنظلیہ ہے۔ عبادت گزار صحابہ کرام میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7558]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7559
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن [أبي] أيوب، عن أبي مَرحُوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن (3) أنس الجُهَني، عن أبيه، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"مَن تركَ اللِّباسَ وهو يَقدِرُ عليه تواضعًا الله ﷿، دَعَاه الله ﷿ يومَ القيامة على رُؤوس الخلائق حتَّى يُخيِّرَه من حُلَلِ الإيمانِ يَلْبَسُ أيَّها شاءَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7372 - صحيح
سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص استطاعت کے باوجود، محض اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے طور پر فاخرانہ لباس ترک کرتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا، اور ایمان کے لباس اس کے سامنے رکھ کر اس کو فرمائے گا کہ ان میں سے جو چاہے، پہن لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ اللِّبَاسِ/حدیث: 7559]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں