المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. تَزْيِينُ الشَّعَرِ
بالوں کی آرائش و زیبائش کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7568
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوَّار (1) ، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن العَيْزار بن حُرَيث، عن أمِّ الحُصين الأحمَسِية، قالت: رأيتُ النَّبِيَّ ﷺ وعليه بُرْدُه قد التَفَعَ به تحت إِبْطِه، كأني أنظرُ إلى عَضَلَة عَضُدِه تَرتجُّ، فسمعتُه يقول:"يا أيها الناسُ، اتَّقوا الله، وإن أُمَّرَ عليكم عبدٌ حَبَشِيٌّ فَاسْمَعُوا له وأَطِيعُوا ما أقامَ لكم كتابَ الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7381 - صحيح
ام الحصین الاحمسیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک چادر تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹا ہوا تھا، گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کے پٹھے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر تم پر کوئی حبشی غلام بھی امیر مقرر کر دیا جائے تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جب تک وہ تمہارے درمیان اللہ عزوجل کی کتاب کو قائم رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7568]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7568]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد» [ترقيم الرساله 7568] [ترقيم الشركة 7477] [ترقيم العلميه 7381]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7568 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه أحمد 45/ (27260) و (27266) و (27268)، والترمذي (1706) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (45/ 27260، 27266، 27268) اور ترمذی (1706) نے یونس بن ابی اسحاق سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 27/ (16646)، ومسلم (1298)، وابن ماجه (2861)، والنسائي (7767)، وابن حبان (4564) من طريق يحيى بن الحصين، عن جدته أم الحصين.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت احمد (27/ 16646)، مسلم (1298)، ابن ماجہ (2861)، نسائی (7767) اور ابن حبان (4564) نے یحییٰ بن حصین سے، انہوں نے اپنی دادی ام حصین سے روایت کی ہے۔
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى سيار.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سیار" بن گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند جید ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7568 in Urdu