🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. كانت الأنبياء يستحبون أن يلبسوا الصوف
انبیاء علیہم السلام اونی لباس پہننا پسند فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7573
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ العدل، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا القاسم بن دِينار الطحَّان، حَدَّثَنَا إسحاق بن منصور السَّلُولي، عن عُمارة بن زاذان، عن ثابت، عن أنس بن مالك: أنَّ مَلِكَ ذي يَزَنٍ أَهدَى للنبيِّ ﷺ حُلَّةً اشتُرِيَتْ بثلاثةٍ وثلاثين بعيرًا وناقةً، فَلَبِسَها النَّبِيُّ ﷺ مَرَّةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7386 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ذی یزن کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک جبہ تحفہ بھیجا، جو کہ 33 اونٹوں اور اونٹنیوں، کے عوض خریدا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اس کو زیب تن کیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7573]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7573 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف عمارة بن زاذان يروي عن ثابت عن أنس مناكير فيما قاله الإمام أحمد، وقد تفرد بهذا الحديث، والمحفوظ عن أنس: أنَّ الذي بعث بحلة هديةً إلى النَّبِيّ ﷺ هو أُكيدر دُومة، وأما حلة ذي يزن فالصحيح فيها أنه أشتراها حكيم بن حزام ثم أراد أن يهديها للنبي ﷺ، ولم يكن قد أسلم بعد، فلم يقبلها النَّبِيّ ﷺ حتَّى اشتراها منه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمارہ بن زاذان، ثابت کے واسطے سے حضرت انس سے منکر روایات نقل کرتا ہے جیسا کہ امام احمد نے فرمایا ہے، اور وہ اس حدیث میں متفرد ہے۔ حضرت انس سے محفوظ روایت یہ ہے کہ جس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حلہ بطور ہدیہ بھیجا تھا وہ "اُکیدرِ دومہ" تھا۔ رہی بات "ذی یزن" کے حلے کی، تو اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ اسے حکیم بن حزام نے خریدا تھا پھر نبی ﷺ کو ہدیہ کرنا چاہا، اور وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، تو نبی ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا یہاں تک کہ اسے ان سے خرید لیا۔
وأخرجه أحمد 21/ (13315) عن حسن بن موسى الأشيب، وأبو داود (4034) عن عمرو بن عون، كلاهما عن عمارة بن زاذان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (21/ 13315) نے حسن بن موسیٰ اشیب سے، اور ابوداؤد (4034) نے عمرو بن عون سے کی ہے، یہ دونوں عمارہ بن زاذان سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔