🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. كانت الأنبياء يستحبون أن يلبسوا الصوف
انبیاء علیہم السلام اونی لباس پہننا پسند فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7577
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، أخبرني أبي، عن مصعب بن شَيْبة، عن صفيّة بنت شَيْبة، عن عائشة قالت: خرجَ رسولُ الله ﷺ ذَاتَ غَدَاة وعليه مِرْطٌ مُرحَّل من شَعرٍ أسودَ (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: الدليل على أنَّ المِرطَ لم يكن لرسولِ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7390 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کالی اون کی منقش چادر تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں: وہ منقش چادر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی نہیں تھی، اس بات کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7577]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7577 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) حديث صحيح، ومصعب بن شيبة - وإن كان ليِّن الحديث - إلا أنَّ له طريقًا صحيحًا عن السيدة عائشة، لذلك عدَّه مسلم من صحيح حديثه، وكذلك صحّحه الترمذي وأبو محمد البغوي.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصعب بن شیبہ -اگرچہ حدیث میں کمزور (لیّن) ہیں- لیکن سیدہ عائشہ سے ان کا ایک صحیح طریق موجود ہے، اسی لیے امام مسلم نے اسے ان کی صحیح احادیث میں شمار کیا ہے، اور اسی طرح ترمذی اور ابو محمد بغوی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25295)، ومسلم (2081)، وأبو داود (4032)، والترمذي (2813) من طرق عن يحيى بن زكريا، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن غريب صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (42/ 25295)، مسلم (2081)، ابوداؤد (4032) اور ترمذی (2813) نے یحییٰ بن زکریا سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے کی ہے۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
وسلف برقم (4758) مع قصة إدخال عليٍّ وزوجه فاطمة وولديهما الحسن والحسين في ذلك المِرط.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (4758) پر حضرت علی، ان کی اہلیہ فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو اس چادر (مرط) میں داخل کرنے کے قصے کے ساتھ گزر چکی ہے۔