المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. كان نبي الله يكره عشرة خصال
اللہ کے نبی ﷺ دس عادتوں کو ناپسند فرماتے تھے
حدیث نمبر: 7605
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن حَبيب بن أبي ثابت عن وهب مولى أبي أحمد، عن أم سلمة: أنَّ النبيَّ ﷺ الا الله دخل عليها وهي تختمِرُ، فقال:"لَيَّةً (1) لا لَيَّتَينِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7417 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7417 - صحيح
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ اس وقت پردہ کئے ہوئے تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دوپٹے کو اپنے سر کے گرد صرف ایک مرتبہ لپیٹو، دو مرتبہ نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7605]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7605 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في النسخ الخطية: "أليّة" بهمزة الاستفهام، والمثبت من" التلخيص" ومصادر التخريج، وهو الجادّة، لأنه فعل أمر وليس استفهامًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "أليّة" (ہمزہ استفہام/سوالیہ کے ساتھ) لکھا ہے، جبکہ جو ہم نے ثابت کیا ہے (لیّہ) وہ "التلخیص" اور دیگر مصادر تخریج سے لیا گیا ہے، اور وہی درست طریقہ ہے کیونکہ یہ فعلِ امر (حکم) ہے نہ کہ سوال۔
(2) إسناده ليّن لجهالة وهب مولى أبي أحمد، فقد تفرد بالرواية عنه حبيب بن أبي ثابت، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند نرم (لَیِّن) ہے، وہب مولیٰ ابی احمد کی جہالت کی وجہ سے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان سے روایت کرنے میں حبیب بن ابی ثابت متفرد ہیں، اور ابن حبان کے علاوہ کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26522) و (26538) و (26617)، وأبو داود (4115) من طرق عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [44/ (26522)، (26538)، (26617)] اور ابوداؤد (4115) نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قال السندي في حاشيته على "المسند": أي: اطوى طيّة واحدة لا ليتين، خوفًا من التشبه بعمائم الرجال.
📝 نوٹ / توضیح: سندھی نے "المسند" پر اپنے حاشیے میں فرمایا ہے: "یعنی اسے (دوپٹے کو) ایک ہی تہہ میں لپیٹا جائے، دو پیچ (یا تہیں) نہ دی جائیں، تاکہ مردوں کے عماموں کے ساتھ مشابہت کا اندیشہ نہ رہے۔"