🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. أَمْسَكَ النَّبِيُّ عَنْ بَيْعَةِ رَجُلٍ فِي عَضُدِهِ تَمِيمَةٌ
نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے بیعت لینے سے ہاتھ روک لیا جس کے بازو پر تعویذ بندھا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7704
أخبرنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا الجُرَيري، عن أبي العلاء، عن عثمان بن أبي العاص قال: قلتُ: يا رسول الله، إِنَّ الشيطانَ قد حالَ بيني وبين صلاتي وقراءتي، فقال:"إنَّ ذلك شيطانٌ يقال له: خنزَبٌ، فإذا أحسَسْتَه فتعوَّذْ بالله منه، واتفُلْ عن يسارك"، قال: ففعلتُ فأذهَبَ الله عنِّي (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7514 - صحيح
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شیطان میری نماز اور میری قرات کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک شیطان ہے جسے ”خنزب“ کہا جاتا ہے، جب تم اسے محسوس کرو تو اس سے اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب (تین بار) تھوک دو“، انہوں نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ نے مجھ سے وہ وسوسہ دور کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7704]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، يزيد بن هارون وإن كان سمع من الجريري» [ترقيم الرساله 7704] [ترقيم الشركة 7612] [ترقيم العلميه 7514]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7704 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، يزيد بن هارون وإن كان سمع من الجريري -وهو سعيد بن إياس- بعد اختلاطه، قد تابعه عن سعيد غير واحد ممن سمع منه قبل اختلاطه، فهو من صحيح حديثه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یزید بن ہارون نے اگرچہ الجریری (سعيد بن ایاس) سے ان کے اختلاط کے بعد سنا، لیکن دیگر ثقہ راویوں (جنہوں نے اختلاط سے پہلے سنا تھا) نے ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ روایت صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17897) عن إسماعيل ابن عليّة، وأحمد 29/ (17898)، ومسلم (2203) من طريق سفيان الثوري، ومسلم (2203) من طريق عبد الأعلى السامي وسالم بن نوح وأبي أسامة، كلهم عن سعيد الجريري، بهذا الإسناد. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، صحیح مسلم (2203) اور دیگر محدثین نے مختلف طرق سے الجریری کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی بھول ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیح مسلم میں ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7704 in Urdu