🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7707
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُبيد القُرشي بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا عيّاش بن عُقبة الحضرمي، حدثني خَيْر (1) بن نُعيم، عن أبي الزُّبير، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: ﴿وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾، قال:"العَشْرُ عَشْرُ الأَضحى (2) ، والوَتْرُ يومُ عَرَفة، والشَّفْعُ يومُ النَّحْر" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7517 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْفَجْرِ ﴿١﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ [سورة الفجر: 1-2] کے متعلق فرمایا: ”دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے (ابتدائی) دس دن ہیں، اور وتر سے مراد عرفہ کا دن ہے، اور شفع سے مراد قربانی کا دن ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7707]
تخریج الحدیث: «إسناده لا بأس برجاله، وأبو الزبير» [ترقيم الرساله 7707] [ترقيم الشركة 7615] [ترقيم العلميه 7517]

الحكم على الحديث:
إسناده لا بأس برجاله

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7707 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرف في النسخ الخطية إلى: جعفر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف کا شکار ہو کر 'جعفر' ہو گیا ہے۔
(2) في (ز) وحدها: الأضحية.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ 'ز' میں تنہا 'الاضحیہ' کا لفظ منقول ہے۔
(3) إسناده لا بأس برجاله، وأبو الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تَدرُس - لم يُصرِّح بسماعه من جابر، وقد تفرّد به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو زبیر (جن کا پورا نام محمد بن مسلم بن تدرس ہے) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اپنے سماع کی تصریح نہیں کی (یعنی روایت معنعن ہے) اور وہ اس روایت میں منفرد ہیں۔
وأخرجه أحمد 22/ (14511)، والنسائي (4086) و (11607) و (11608) من طرق عن زيد ابن الحباب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/14511) اور امام نسائی (4086، 11607، 11608) نے زید بن حباب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7707 in Urdu