المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. الحديث الموضوع عن أنس فى الجهر ببسم الله الرحمن الرحيم فى الصلاة
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منسوب بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے کی من گھڑت حدیث کا بیان۔
حدیث نمبر: 773
ما حدثني أبو بكر مكِّيُّ بن أحمد البَردَعيّ، حدثنا أبو الفضل العباس بن عِمران القاضي، حدثنا أبو جابر سَيْف بن عمرو، حدثنا محمد بن أبي السَّريّ، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا مالك، عن حميد، عن أنس، قال: صلَّيتُ خلفَ النبي ﷺ وخلفَ أبي بكر وخلفَ عمر وخلفَ عثمان وخلفَ علي، فكلُّهم كانوا يجهَرون بقراءة"بِسم الله الرَّحمن الرَّحيم" (2) . إنما ذكرتُ هذا الحديث شاهدًا لما تقدمه، ففي هذه الأخبار التي ذكرناها مُعارَضةٌ لحديث قتادةَ الذي يرويه أئمَّتُنا عنه. وقد بقيَ في الباب عن أمير المؤمنين عثمان وعلي وطلحة بن عبيد الله وجابر بن عبد الله وعبد الله بن عمر والحَكَم بن عُمير الثُّمالي والنعمان بن بَشير وسَمُرة بن جُندُب وبُريدة الأَسلمي وعائشة بنت الصِّدِّيق، كلُّها مخرَّجة عندي للباب تركتها إيثارًا للتخفيف، واختصرتُ منها ما يَلِيقُ بهذا الباب، وكذلك قد ذكرتُ في الباب مَن جَهَرَ ببِسْم الله الرَّحمن الرَّحيم من الصحابة والتابعين وأتباعهم ﵃ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 855 - أما استحيى المؤلف أن يورد هذا الحديث الموضوع فأشهد بالله ولله بأنه كذب
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 855 - أما استحيى المؤلف أن يورد هذا الحديث الموضوع فأشهد بالله ولله بأنه كذب
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 773]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 773]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 773 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا، العباس بن عمران وسيف بن عمرو لم نتبيَّن حالهما، ومحمد بن أبي السري متكلَّم فيه من جهة حفظه كما سبق، وكذا إسماعيل بن أبي أويس، وقد رواه جماعة الرواة عن مالك خلاف هذا: أنهم كانوا لا يقرؤون "بسم الله الرحمن الرحيم" إذا افتتحوا الصلاة، وقد وقفه جماعة منهم عن مالك فلم يذكروا فيه النبي ﷺ وأسنده آخرون بذِكْره، والجميع لم يذكروا فيه عليًّا، بيَّن ذلك كلَّه ابن عبد البر في كتابه "التمهيد" 2/ 228 - 230، والحديث في "مسند أحمد" 20/ (12714) من طريق حماد بن سلمة عن قتادة وثابت وحميد عن أنس، وانظر تمام تخريجه فيه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں عباس بن عمران اور سیف بن عمرو کے حالات واضح نہیں ہیں، محمد بن ابی السری کے حافظے پر کلام پہلے گزر چکا ہے، اور اسماعیل بن ابی اویس بھی کلام سے خالی نہیں ہیں۔ امام مالک کے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت نے اس کے خلاف روایت کیا ہے کہ وہ نماز شروع کرتے وقت "بسم اللہ" نہیں پڑھتے تھے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان میں سے ایک گروہ نے اسے امام مالک سے "موقوف" روایت کیا (یعنی نبی ﷺ کا ذکر نہیں کیا) جبکہ دوسروں نے اسے "مسند" (نبی ﷺ تک) بیان کیا، لیکن کسی نے بھی اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ یہ تمام تفصیل علامہ ابن عبدالبر نے "التمہید" 2/ 228 - 230 میں بیان کی ہے۔ یہ حدیث "مسند احمد" 20/ (12714) میں حماد بن سلمہ عن قتادہ وثابت وحمید عن انس کے طریق سے مروی ہے، مکمل تخریج وہاں ملاحظہ کریں۔
وقد اشتدَّ إنكار الذهبي في "تلخيص المستدرك" على الحاكم رحمهما الله، فقال: أما استحيا المؤلف أن يورد هذا الحديث الموضوع، فأشهدُ بالله والله بأنه كذبٌ.
📌 اہم نکتہ: امام ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں امام حاکم پر سخت نکیر کی ہے اور فرمایا: "کیا مؤلف (حاکم) کو یہ موضوع (من گھڑت) حدیث بیان کرتے ہوئے حیا نہ آئی؟ میں اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دیتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے۔"
(1) قال الإمام البيهقي في كتابه "معرفة السنن والآثار" (3140): قد ذهب بعض أهل العلم إلى أنهم كانوا قد يجهرون بها وقد لا يجهرون فالرواية فيهما صحيحة من طريق الإسناد، والأمر فيه واسع، فإن شاء جهر، وإن شاء أسرَّ، إلّا أنه لا بدَّ من قراءتها، وإنما اختلافهم في الجهر دون القراءة، ومن قال: لم يقرأ، أراد: لم يجهر، والله أعلم.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام بیہقی نے "معرفة السنن والآثار" (3140) میں فرمایا: بعض اہل علم کا موقف ہے کہ صحابہ کبھی جہر کرتے اور کبھی نہیں کرتے تھے، اس لیے سند کے اعتبار سے دونوں طرح کی روایات صحیح ہیں۔ اس معاملے میں وسعت ہے، انسان چاہے تو جہر کرے یا آہستہ پڑھے، البتہ اسے پڑھنا ضروری ہے۔ اختلاف صرف جہر (بلند آواز) میں ہے، قرات میں نہیں۔ جس راوی نے یہ کہا کہ "نہیں پڑھتے تھے" اس کی مراد یہ تھی کہ "بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے"۔ واللہ اعلم۔