المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. استقم ولتحسن خلقك .
استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو بہتر بناؤ
حدیث نمبر: 7808
حدثني محمد بن صالح بن هانئ [حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني وبشر بن سهل اللَّبّاد، قالا: حدثنا عبد الله بن صالح] (1) حدثنا حَرْملة بن عِمران التُّجِيبي، أنَّ أبا السِّمْط (2) سعيد بن أبي سعيد المَهْري حدّثه عن أبيه، عن عبد الله ابن عمرو: أنَّ معاذ بن جبل أراد سفرًا، فقال: يا رسولَ الله، أَوصِني، قال:"اعبُدِ اللهَ ولا تُشْرِكْ به شيئًا" قال: يا رسولَ الله، زِدْني، قال:"إذا أسأتَ فأحسِنْ" قال: يا رسولَ الله، زِدْني، قال:"استقِمْ ولتُحسِّنَ خُلُقَك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7616 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7616 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے سفر کا ارادہ کیا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وصیت فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی برائی ہو جائے تو (اس کے بعد) کوئی نیکی کر لیا کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مزید فرمائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استقامت اختیار کرو اور اپنے اخلاق کو عمدہ بناؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7808]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7808]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وسلف تخريجه والكلام عليه برقم (180)» [ترقيم الرساله 7808] [ترقيم الشركة 7715] [ترقيم العلميه 7616]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7808 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين لم يرد في النسخ، وزدناه من "إتحاف المهرة" (12129)، وانظر الرواية السالفة برقم (180).
📝 نوٹ / توضیح: بڑی بریکٹ کے درمیان والی عبارت اصل نسخوں میں موجود نہیں تھی، ہم نے اسے "اتحاف المہرہ" (12129) کے حوالے سے شامل کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس سلسلے میں سابقہ روایت نمبر (180) ملاحظہ کریں۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: السوط، والمثبت من الرواية السالفة، ويقال في كنيته أيضًا: أبو السُّميط، وهي أشهر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ غلطی سے "السوط" ہو گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو پچھلی روایت میں ثابت ہے (یعنی السُّميط)۔ اس راوی کی کنیت "ابو السُّميط" بھی بتائی جاتی ہے اور یہی زیادہ مشہور ہے۔
(1) حسن لغيره، وسلف تخريجه والكلام عليه برقم (180).
⚖️ درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر یہ روایت "حسن لغیرہ" کے درجے پر ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اس کی مکمل تخریج اور بحث پہلے حدیث نمبر (180) کے تحت گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7808 in Urdu