🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. إذا عطس أحدكم فليضع كفيه على وجهه .
جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اپنی ہتھیلیاں چہرے پر رکھ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7876
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد الحنظلي بقَنْطرةِ بَرَدانَ، حَدَّثَنَا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حَدَّثَنَا أبو عاصم، حَدَّثَنَا ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"إنَّ الله تعالى يُحِبُّ العُطَاسَ ويكرهُ التثاؤبَ، فإذا عَطَسَ أحدُكم فقال: الحمدُ لله، فحقٌّ على كلِّ مَن سَمِعَ أن يُشمِّتَه، يقول: يرحمُك الله، والتثاؤبُ من الشيطان، فإذا تثاءَبَ أحدُكم فليردَّه ما استطاعَ، فإِنَّ أحدكم إذا تثاءبَ فقال: ها ها، يَضحكُ منه الشيطان" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7683 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جماہی کو ناپسند کرتا ہے، جب کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہے۔ اور جو اس کو سنے، اس پر حق ہے کہ اس کو یوں جواب دے یرحمک اللہ ۔ جماہی شیطان کی جانب سے ہوتی ہے اور جب کسی کو جماہی آئے تو وہ اس کو حتی الامکان روکنے کی کوشش کرے۔ اس لیے کہ جب کسی کو جماہی آتی ہے تو شیطان خوش ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7876]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7876 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذ إسناد قوي. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد بن عبد الله، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد، وابن عجلان: هو محمد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند قوی (مضبوط) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے راویوں کی وضاحت درج ذیل ہے: ابو قلابہ سے مراد عبد الملک بن محمد بن عبد اللہ الرقاشی ہیں، ابو عاصم سے مراد الضحاک بن مخلد النبیل ہیں، اور ابن عجلان سے مراد محمد بن عجلان المدنی ہیں۔
وأخرجه أحمد (13/ 7599) و (16/ 10707)، والترمذي (2746)، والنسائي (9974)، وابن حبان (2358) من طرق عن محمد بن عجلان، بهذا الإسناد وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (13/ 7599) اور (16/ 10707) میں، امام ترمذی نے (2746)، امام نسائی نے (9974) اور امام ابن حبان نے (2358) میں محمد بن عجلان کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس روایت کو "حدیث حسن" قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (968) من طريق عبد الله بن سعيد المقبري، عن أبيه بنحوه. وعبد الله بن سعيد متروك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ نے (968) میں عبد اللہ بن سعید المقبری عن ابیہ (سعید بن ابی سعید) کے طریق سے اس جیسی روایت نقل کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں موجود راوی عبد اللہ بن سعید المقبری "متروک" (جس کی روایت ترک کر دی گئی ہو) ہے۔
وسيأتي الحديث برقم (7879) و (7880) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبيه كيسان عن أبي هريرة، بزيادة كيسان أبي سعيد المقبري.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث آگے چل کر نمبر (7879) اور (7880) پر محمد بن عبد الرحمن بن ابی ذئب عن سعید المقبری کے طریق سے آئے گی، جس میں سعید اپنے والد کیسان (ابو سعید المقبری) کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، یہاں کیسان کے نام کا اضافہ موجود ہے۔
ورواية ابن عجلان محفوظة، فقد تابعه عبدُ الرحمن بن إسحاق عند أبي يعلى (6627)، وابن خُزَيمة (922)، وابنُ جريج وأبو مَعشر فيما ذكره الدارقطني في "العلل" (2056)، دون ذكر والد سعيد لكنه مع ذلك قال: ويشبه أن يكون ابن أبي ذئب قد حفظه. والذي يظهر - والله أعلم - أنَّ سعيدًا المقبري كان يرويه على الوجهين عن أبي هريرة. وسيأتي عند تخريج الحديث (7879) أنَّ ابن أبي ذئب نفسه رواه عن سعيد المقبري على الوجهين.
📌 اہم نکتہ: محمد بن عجلان کی روایت "محفوظ" ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: ابن عجلان کی متابعت عبد الرحمن بن اسحاق نے کی ہے جیسا کہ ابو یعلی (6627) اور ابن خزیمہ (922) میں موجود ہے، نیز ابن جریج اور ابو معشر نے بھی ان کی تائید کی ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے "العلل" (2056) میں ذکر کیا ہے، اگرچہ یہاں سعید کے والد کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے ابن ابی ذئب نے اسے حفظ کیا تھا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: واللہ اعلم، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سعید المقبری اسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دو طرح (کبھی واسطے کے ساتھ اور کبھی بلا واسطہ) روایت کرتے تھے۔ اس کی مزید وضاحت حدیث (7879) کی تخریج میں آئے گی کہ ابن ابی ذئب نے خود اسے سعید المقبری سے دو طرح سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد (14/ 8631)، والبخاري (6224)، وأبو داود (5033)، والنسائي (9989) من طريق أبي صالح، عن أبي هرير مرفوعًا: "إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله، وليقل أخوه - أو صاحبه -: يرحمك الله، فإذا قال له: يرحمك الله، فليقل: يهديكم الله ويصلح بالكم".
🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد (14/ 8631)، امام بخاری (6224)، امام ابو داود (5033) اور امام نسائی (9989) نے ابو صالح کے طریق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: "جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ 'الحمد للہ' کہے، اور اس کا بھائی یا ساتھی 'یرحمک اللہ' کہے، پھر جب وہ اسے 'یرحمک اللہ' کہہ دے تو چھینکنے والا 'یہدیکم اللہ ویصلح بالکم' (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح کرے) کہے۔"
وأخرجه أحمد (15/ 9162) و (16/ 10695)، ومسلم (2994)، والترمذي (370)، وابن حبان (2357) و (2359) من طريق العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، عن أبيه، عن أبي هريرة مرفوعًا: "إنَّ التثاؤب من الشيطان، فإذا تثاءب أحدكم، فليَكظِم ما استطاع". وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (15/ 9162) اور (16/ 10695) میں، امام مسلم نے (2994)، امام ترمذی نے (370) اور امام ابن حبان نے (2357) و (2359) میں علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب عن ابیہ عن ابی ہریرہ کے طریق سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: "جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔" ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
قوله: "يشمّته" يُروى بالشين المعجمة والسين المهملة، فالتشميت بالمعجمة معناه: أبعد الله عنك الشماتة، وبالمهملة هو من السَّمت، وهو القصد والهُدى. قاله النووي في "شرح مسلم".
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: لفظ "يشمّته" کو شین (معجمہ) اور سین (مہملہ) دونوں کے ساتھ روایت کیا گیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اگر اسے 'ش' سے (التشميت) پڑھا جائے تو اس کا مطلب ہے: "اللہ تجھ سے دشمنوں کی خوشی (شماتت) کو دور کرے"۔ اور اگر اسے 'س' سے (التسمیت) پڑھا جائے تو یہ 'السَّمت' سے ماخوذ ہے جس کے معنی "درست راستہ اور ہدایت" کے ہیں۔ یہ وضاحت امام نووی نے "شرح مسلم" میں بیان فرمائی ہے۔