🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. إباحة قول الناس جعلت فداك وما يشبهه .
لوگوں کے اس قول "میں آپ پر فدا ہوں" اور اس جیسے دیگر کلمات کہنے کا جواز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7949
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا أُنيس بن أبي يحيى، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: خرج إلينا رسولُ الله ﷺ في مرضِه الذي ماتَ فيه وهو مُعصَّبُ الرأس، قال: فاتّبعتُه حتى صَعِدَ المِنْبر، قال: فقال:"إِنِّي الساعةَ لَقائمٌ على الحَوْض"، ثم قال:"إنَّ عبدًا عُرِضَتْ عليه الدنيا وزِينتُها، فاختارَ الآخرةَ"، فلم يَفطَنْ في القوم لذلك أحدٌ إلَّا أبو بكر، فقال: بأبي أنت وأمي، بل نَفدِيكَ بأنفسِنا وأولادِنا وأموالِنا وموالِينا. قال: ثمَّ هَبَطَ من المنبر، فما رُئيَ حتى الساعةِ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين والغَرضُ في إخراجه في هذا الكتاب إباحة قول الناس بعضهم لبعض: نفسي ومالي لك الفداءُ، أو جُعِلتُ فِداك، أو فَديتُك، وما يشبهه. وشاهدُ هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7756 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض وفات کے دوران اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی، میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھ پیچھے چلا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: میں اس وقت حوض کوثر پر کھڑا ہوا ہوں، پھر فرمایا: اللہ کے ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی، اس نے آخرت کو اختیار کر لیا ہے، اس بات کی گہرائی کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی نہ سمجھ سکا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، ہم آپ پر اپنی جانیں، اپنی اولادیں، اپنے غلام اور اپنا مال فدا کرنے کو تیار ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف سے نیچے تشریف لے آئے، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری جلوہ قیامت تک کے لیے نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اس حدیث کو اس کتاب میں درج کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ کسی کو نفسی و مالی لک الفداء (میری جان اور میرا مال آپ پر قربان ہو) کہنا یا جعلت فداک یا فدیتک کہنا، یا اس جیسے دیگر جملے کہنا جائز ہے۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے، (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7949]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7949 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد. أُنيس بن يحيى: هو الأسلمي، وأبوه هو سِمعان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند جید (بہترین) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: انیس بن یحییٰ سے مراد انیس بن یحییٰ الاسلمی ہیں اور ان کے والد کا نام سمعان ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11863)، وابن حبان (6593) من طريق صفوان بن عيسى، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 17/ (11135) و (11136)، والبخاري (3904)، ومسلم (2382)، والترمذي (3660)، وابن حبان (6594) و (6861) من طريق عبيد بن حنين، وأحمد 17/ (11134) و (11135) والبخاري (3654)، ومسلم (2382)، وابن حبان (6594) من طريق بُسر بن سعيد، كلاهما عن أبي سعيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 18/ (11863) اور ابن حبان (6593) نے صفوان بن عیسیٰ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز اسے امام احمد 17/ (11135، 11136)، بخاری (3904)، مسلم (2382)، ترمذی (3660) اور ابن حبان (6594، 6861) نے عبید بن حنین کے طریق سے روایت کیا ہے۔ مزید برآں امام احمد 17/ (11134، 11135)، بخاری (3654)، مسلم (2382) اور ابن حبان (6594) نے بسر بن سعید کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں (عبید اور بسر) اسے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔