المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. الأحاديث المنذرة عن يمين كاذبة
جھوٹی قسم کھانے پر ڈرانے والی احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7996
حدثنا أحمد بن كامل، حدثنا أحمد بن عُبيد الله بن إدريس، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام بن حسّان، عن محمد بن سِيرِين، عن عِمران بن حُصَين قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن حَلَفَ على يمينٍ مصبورةٍ كاذبةٍ، فليتبوَّأ بوجهِه مَقعَدَه من النار" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7802 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7802 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 7996]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7996 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (19912) و (19967)، وأبو داود (3242) من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (33/ 19912 اور 19967) اور امام ابو داؤد (3242) نے یزید بن ہارون کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قوله: "مصبورة"، أي: أُلزِمَ بها وحُبسَ عليها، وكانت لازمةً لصاحبها من جهة الحُكم، وقيل لها: مصبورة - وإن كان صاحبها في الحقيقة هو المصبور - لأنه إنما صُبر من أجلها، أي: حُبس، فوُصفت بالصبر، وأضيفت إليه مجازًا. قاله ابن الأثير في "النهاية".
📝 نوٹ / توضیح: حدیث میں "مصبورہ" (قسم) کے معنی یہ ہیں کہ جس پر (حکمِ شرعی کی رو سے) لازم پکڑ لیا جائے یا قید کر دیا جائے۔ حقیقت میں تو وہ شخص "مصبور" (روکا ہوا یا مجبور) ہوتا ہے جو قسم کھاتا ہے، لیکن چونکہ اسے اس قسم کی وجہ سے روکا گیا، اس لیے مجازاً قسم کو ہی "مصبورہ" کہہ دیا گیا۔ یہ وضاحت علامہ ابن اثیر نے "النهایہ" میں کی ہے۔