🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الأحاديث المنذرة عن يمين كاذبة
جھوٹی قسم کھانے پر ڈرانے والی احادیث کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7998
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا نافع بن يزيد، حدثني أبو سفيان بن جابر بن عَتِيك، عن أبيه، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"مَنِ اقْتَطَعَ مالَ امرئٍ مسلم بيمينِه، حرَّم الله عليه الجنَّة، وأدخَلَه النار" قالوا: يا رسولَ الله، وإن كان شيئًا يسيرًا؟ قال:"وإن كان سِواكًا، وإن كان سِواكًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7804 - صحيح
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کھا کر ہتھیا لیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے اور اس کو دوزخ میں داخل فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 7998]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7998 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل أبي سفيان بن جابر، فهو تابعي روى عنه اثنان ولم يؤثر فيه جرح أو تعديل.
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح لغیرہ۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے کیونکہ اس میں ابو سفیان بن جابر نامی راوی ہیں، جو تابعی ہیں اور ان سے دو راویوں نے روایت کی ہے، تاہم ان کے بارے میں کوئی صریح جرح یا تعدیل منقول نہیں ہے۔
وأخرجه البخاري في التاريخ الكبير 2/ 208، وابن المنذر في "الأوسط" (8921)، والطبراني في "الكبير" (1782)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1515) من طرق عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (2/ 208)، ابن المنذر نے "الاوسط" (8921)، طبرانی نے "الکبیر" (1782) اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (1515) میں سعید بن ابی مریم کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن قانع في "معجم الصحابة" 1/ 141، والطبراني (1783)، وأبو نعيم (1514) من طريق سعيد بن أبي أيوب، وأخرجه الطبراني (1784)، وأبو نعيم (1516) من طريق عبد الله بن وهب، كلاهما عن نافع بن يزيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن قانع (1/ 141)، طبرانی (1783) اور ابونعیم (1514) نے سعید بن ابی ایوب کے طریق سے، اور طبرانی (1784) و ابونعیم (1516) نے عبد اللہ بن وہب کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں نافع بن یزید سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔
ويشهد لمعناه أحاديث الباب التي ذكرها المصنِّف قبلًا وبعدًا.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کے مفہوم کی تائید ان دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے جو مصنف نے اس باب میں پہلے اور بعد میں ذکر کی ہیں۔