🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. من أكبر الكبائر عقوق الوالدين واليمين الغموس
والدین کی نافرمانی اور جھوٹی قسم (یمینِ غموس) بڑے گناہوں میں سے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8004
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان المَروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكِّيُّ بن إبراهيم، أخبرنا هاشم بن هاشم بن عُتبة، عن عبد الله بن نِسْطاس مولى كثير بن الصَّلت عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن حَلَفَ على مِنبَري هذا على يمينٍ آثمةٍ، فليَتبوَّأْ مَقعَدَه من النَّار - أو قال: إِلَّا وَجَبَتْ له النَّارُ - ولو على سِواكٍ أخضرَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رواه مالك بن أنس عن هاشم بن هاشم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7810 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے اس منبر پر جھوٹی قسم کھائی، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ بنا لے۔ اگرچہ وہ سبز مسواک کے بارے میں قسم کھائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8004]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8004 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي من أجل عبد الله بن نسطاس. عبد الصمد بن الفضل: هو ابن موسى البلخي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن نسطاس کی وجہ سے "قوی" (مضبوط) ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: عبد الصمد بن الفضل سے مراد عبد الصمد بن الفضل بن موسیٰ البلخی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3246)، وابن ماجه (2325)، من طرق عن هاشم بن هاشم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (3246) اور ابن ماجہ (2325) نے ہاشم بن ہاشم کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (15024) من طريق عبد الرحمن بن جابر، عن أبيه جابر. وفي سنده مجهول ومبهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (23/ 15024) میں عبد الرحمن بن جابر عن ابیہ جابر (رضی اللہ عنہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں ایک راوی مجہول (نا معلوم) اور مبہم ہے۔