المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. إن الله يحب كل قلب حزين
بے شک اللہ ہر غمگین (آخرت کی فکر کرنے والے) دل کو پسند کرتا ہے
حدیث نمبر: 8081
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثني أبو الفضل أحمد (3) بن الحسين القطَّان، حدثنا محمد بن مُقاتِل المَروَزي، حدثنا يوسف بن عطيّة - وكان من أهل السُّنّة - عن ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"يكونُ في آخر الزَّمان عُبَّادٌ جُهَّالٌ، وقُرَّاء فَسَقةٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7883 - يوسف بن عطية هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7883 - يوسف بن عطية هالك
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں جاہل عبادت گزار اور فاسق قاری ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8081]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8081 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: محمد، والتصويب من "شعب الإيمان"، وله ترجمة في "تاريخ الإسلام" للذهبي 6/ 671.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’محمد‘ بن گیا ہے، جس کی تصحیح ’شعب الایمان‘ سے کی گئی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ان (راوی) کا ترجمہ ذہبی کی ’تاریخ الاسلام‘ (6/ 671) میں موجود ہے۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، يوسف بن عطية - وهو ابن باب الصفّار السعدي مولاهم متروك، وبه أعلَّه الذهبي في التلخيص"، فقال: يوسف هالك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یوسف بن عطیہ (جو ابن باب الصفار السعدی مولاہم ہے) متروک راوی ہے، اسی وجہ سے ذہبی نے ’التلخیص‘ میں اسے معلول قرار دیا اور کہا: یوسف ہلاک شدہ (ساقط) ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الشعب" (6555) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد. وقال عقبه: يوسف بن عطية كثير المناكير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے ’الشعب‘ (6555) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے اس کے بعد فرمایا: یوسف بن عطیہ بہت زیادہ منکر روایات بیان کرنے والا ہے۔
وأخرجه ابن حبان في "المجروحين" 3/ 134 - 135، والآجري في "أخلاق العلماء" ص 87، وابن عدي في "الكامل" 7/ 153، وأبو نعيم في "الحلية" 2/ 331 - 332 من طرق عن يوسف بن عطية به. وقال أبو نعيم عقبه: هذا حديث غريب من حديث ثابت، لم نكتبه إلَّا من حديث يوسف بن عطية، وهو قاض بصري في حديثه نكارة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے ’المجروحین‘ (3/ 134-135) میں، آجری نے ’اخلاق العلماء‘ (ص 87) میں، ابن عدی نے ’الکامل‘ (7/ 153) میں اور ابو نعیم نے ’الحلیہ‘ (2/ 331-332) میں مختلف طرق سے یوسف بن عطیہ سے تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم نے اس کے بعد کہا: "یہ ثابت (البنانی) کی حدیث سے ’غریب‘ ہے، ہم نے اسے صرف یوسف بن عطیہ کی حدیث سے لکھا ہے، وہ بصرہ کا قاضی تھا اور اس کی حدیث میں نکارت پائی جاتی ہے۔"