المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. من سمع النداء فلم يجب فلا صلاة له
جس نے اذان سنی اور اس کا جواب نہ دیا اس کی نماز نہیں۔
حدیث نمبر: 812
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا عبد الرحمن بن غَزْوان، حدثنا شُعبة. وحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا عمرو بن عَوْن وعبد الحميد بن بَيَان قالا: حدثنا هُشَيم بن بَشِير، حدثنا شعبة، حدثنا عَدِيّ بن ثابت، حدثنا سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس، أن النبي ﷺ قال:"مَن سَمِعَ النداء فلم يُجِبْ، فلا صلاةَ له" (1) .
هذا حديث قد أوقَفَه غُندَرٌ وأكثرُ أصحاب شعبة، وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهُشَيم وقُرَاد أبو نوح (1) ثقتان، فإذا وَصَلَاه فالقولُ فيه قولُهما. وله في سنده عن عَدِيٍّ بن ثابت شواهدُ، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 893 - على شرطهما
هذا حديث قد أوقَفَه غُندَرٌ وأكثرُ أصحاب شعبة، وهو صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهُشَيم وقُرَاد أبو نوح (1) ثقتان، فإذا وَصَلَاه فالقولُ فيه قولُهما. وله في سنده عن عَدِيٍّ بن ثابت شواهدُ، فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 893 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی اور (مسجد میں) نہ آیا، اس کی کوئی نماز نہیں (یعنی کامل نہیں)۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غندر اور شعبہ کے اکثر ساتھیوں نے موقوفاً بیان کی ہے، لیکن ہشیم اور قراد ابو نوح نے اسے متصل روایت کیا ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں، لہٰذا ان کی مرفوع روایت ہی معتبر ہے، یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 812]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غندر اور شعبہ کے اکثر ساتھیوں نے موقوفاً بیان کی ہے، لیکن ہشیم اور قراد ابو نوح نے اسے متصل روایت کیا ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں، لہٰذا ان کی مرفوع روایت ہی معتبر ہے، یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 812]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 812 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح موقوفًا، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختُلف على شعبة في رفعه ووقفه كما سيشير المصنف لاحقًا، والموقوف أصح، فإنَّ جمهور أصحاب شعبة من الثقات على وقفه، منهم وكيع عند ابن أبي شيبة في "مصنفه" 1/ 345، وعلي بن الجعد كما في "الجعديات" للبغوي (482)، ووهب بن جرير وحفص بن عمر أبو عمر الحوضي وسليمان بن حرب كما عند البيهقي في "سننه" 3/ 174، وعمرو بن مرزوق عند قاسم بن أصبغ في كتابه كما في "بيان الوهم والإيهام" لابن القطان الفاسي 2/ 278، وأما رواية غُندر - وهو محمد بن جعفر - التي ذكرها المصنف فلم نقف عليها، وغُندر أثبت الناس في شعبة كما قال غير واحد، وقال ابن المبارك: إذا اختلف الناس في حديث شعبة فكتابُ غندر حَكَمٌ بينهم. وقد ذهب إلى تصحيح هذا الخبر موقوفًا عبدُ الحق الإشبيلي في "الأحكام الوسطى" 1/ 274 ولم يتعقَّبه في ذلك ابن القطان الفاسي في "الوهم والإيهام 2/ 278 و 3/ 96 كالمقرِّ له.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) موقوفاً (صحابی کے قول کے طور پر) یہ روایت صحیح ہے، اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: اس کے مرفوع (نبی ﷺ کے قول) یا موقوف ہونے میں شعبہ کے شاگردوں میں اختلاف ہے، مگر موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے کیونکہ شعبہ کے ثقہ شاگردوں کی اکثریت (جیسے وکیع، سلیمان بن حرب وغیرہ) نے اسے موقوف ہی روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: غندر کی جس روایت کا مصنف نے ذکر کیا ہے وہ ہمیں نہیں مل سکی، حالانکہ شعبہ کی روایات میں غندر سب سے زیادہ ثقہ ہیں۔ عبدالحق اشبیلی نے اس خبر کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه مرفوعًا ابن ماجه (793)، وابن حبان (2064) من طريق عبد الحميد بن بيان - وقرن به عند ابن حبان زكريا بن يحيى - بهذا الإسناد. وزادا فيه "إلّا من عذر". وانظر ما بعده من الروايات.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مرفوعاً ابن ماجہ (793) اور ابن حبان (2064) نے عبدالحمید بن بیان کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں "سوائے کسی عذر کے" کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
(1) قُراد أبو نوح: هو عبد الرحمن بن غزوان المذكور في السند آنفًا، وهو مع ثقته له ما يُنكَر كما قال الذهبي في "الكاشف"، وترجيح المصنف روايته ورواية هشيم على روايات غيرهما من ثقات أصحاب شعبة كما سبق تساهلٌ منه ﵀.
👤 راوی پر جرح: (1) قراد ابونوح (عبدالرحمن بن غزوان) اگرچہ ثقہ ہیں مگر ان کی کچھ روایات منکر ہوتی ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ: مصنف کا ان کی اور ہشیم کی روایت کو شعبہ کے دیگر ثقہ شاگردوں پر ترجیح دینا ان کی تساہل پسندی ہے۔