المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. فى جهنم بئر يسكنها كل جبار
جہنم میں ایک ایسا کنواں ہے جس میں ہر جابر و سرکش رہے گا
حدیث نمبر: 8144
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف، حدثنا أبو المغيرة، حدثنا سليمان بن سُليم أبو سَلَمة الكِناني، حدثني يحيى بن جابر الطائي، قال: سمعتُ المِقْدام بن مَعْدِي كَرِبَ الكِندي يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ما مَلأَ آدميٌّ وعاءً شرًا من بَطْنِه حَسْبُ ابن آدمَ ثلاثُ أُكلاتٍ يُقِمَنَ صُلْبَه، فإن كان لا محالةَ، فثُلثٌ طعامٌ، وثُلثٌ شرابٌ، وثُلثٌ لنَفَسِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7945 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7945 - صحيح
سیدنا مقداد بن معدی کرب الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا برتن کبھی نہیں بھرا، انسان کو صرف تین لقمے کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں، اگر زیادہ ہی کھانا ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانا کھاؤ، ایک تہائی میں پانی ڈالو، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8144]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8144 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. محمد بن عوف هو ابن سفيان الطائي، وشيخه أبو المغيرة: هو عبد القدوس بن الحجاج الخولاني.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: 1. محمد بن عوف: یہ ابن سفیان الطائی ہیں۔ 2. ان کے شیخ ابو المغیرہ: یہ عبد القدوس بن حجاج الخولانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28 / (17186) عن أبي المغيرة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (28/ 17186) نے ابو المغیرہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2380)، والنسائي (6738) من طريقين عن أبي سلمة سليمان بن سليم، عن يحيى بن جابر، به. وقرن الترمذي بأبي سلمة حبيب بن صالح، وقال: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2380) اور نسائی (6738) نے دو طریقوں سے ابو سلمہ سلیمان بن سلیم، از یحییٰ بن جابر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ترمذی نے ابو سلمہ کے ساتھ حبیب بن صالح کو بھی ملایا (مقرون کیا) ہے اور فرمایا: یہ حدیث "حسن صحیح" ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (7316)
📖 حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں پیچھے نمبر (7316) پر گزر چکا ہے۔