🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. من سمع الصلاة ينادى بها صحيحا من غير عذر فلم يأتها لم يقبل الله له صلاة فى غيرها
جو شخص صحت مند ہو، بغیر عذر نماز کی پکار سنے اور مسجد نہ آئے تو اللہ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 816
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو الفضل جعفر بن محمد بن إبراهيم الصَّيدَلاني ببغداد، حدثنا الحسن بن عبد العزيز الجَرَويّ، حدثنا يحيى بن حسّان، حدثنا سليمان بن قَرْم، عن أبي جَنَاب، عن عَدِيّ بن ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"من سَمِعَ الصلاةَ يُنادَى بها صحيحًا من غير عُذْر، فلم يأتِها، لم يَقبَلِ اللهُ له صلاةً في غيرها" قيل: وما العذرُ؟ قال:"المرضُ والخوف" (2) . ومنها:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سنی اور وہ تندرست بھی تھا اور اسے کوئی عذر بھی نہیں تھا، پھر بھی (جماعت میں) نہ آیا، تو اللہ اس کی وہ نماز (جو اس نے اکیلے پڑھی) قبول نہیں فرمائے گا۔ پوچھا گیا: عذر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیماری اور خوف۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 816]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 816 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف أبي جناب، وسليمان بن قرم سيئ الحفظ وقد أسقط من إسناده مغراءَ العبدي. وانظر ما قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) ابوجناب کے ضعف اور سلیمان بن قرم کے خراب حافظے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، نیز انہوں نے سند سے "مغراء العبدی" کا نام گرا دیا ہے۔