المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. مشاورة عمر فى ميراث الجد والإخوة
دادا اور بھائیوں کی میراث کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مشاورت
حدیث نمبر: 8181
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن أبيه: أنَّ عمر بن الخطّاب لمّا استشارهم في مِيراث الجدِّ والإخوة، قال زيد: وكان رأيي أنَّ الإخوة أَولى بالميراث من الجدِّ، وكان عمر يَرَى يومئذٍ أنَّ الجدَّ أَولى بميراث ابن ابنه من إخوته. قال زيدٌ: فحاورتُ أنا عمرَ، فضربتُ لعمرَ في ذلك مثلًا، وضربَ عليُّ بن أبي طالب وعبدُ الله بن عباس لعمر مثلًا يومَئِذٍ السَّيلَ (1) ، يَضْرِبانه ويُصرِّفانه على نحو تصريف زيد (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7982 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7982 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دادا اور بھائیوں کی وراثت کے سلسلے میں مشورہ کیا تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ بھائی، دادا کی بہ نسبت وراثت کا زیادہ حقدار ہے، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ دادا اپنے پوتے کی وراثت کا میت کے بھائیوں سے زیادہ مستحق ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بحث کی، اور اس سلسلہ میں ان کو ایک مثال سنائی۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مثال دی، اور سیدنا زید کے قوانین کے مطابق ضربیں اور تقسیمیں بیان کیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8181]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8181 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: السبيل، وجاء على الصواب في "التلخيص".
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ) تحریف ہو کر "السبیل" بن گیا ہے، جبکہ "التلخیص" میں درست طور پر آیا ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابن ابی الزناد (عبدالرحمن) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه بنحوه البيهقي 6/ 247 من طريق أحمد بن عمرو بن السرح، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد ثم قال البيهقي: وزاد فيه غيره عن ابن أبي الزناد عن أبيه عن خارجة بن زيد عن أبيه .... قال زيد: فضربتُ لعمر في ذلك مثلًا، فقلت له: لو أنَّ شجرة تشعّبَ من أصلها غصن ثم تشعّب من ذلك الغصن خُوطانِ (والخُوط: الغصن الناعم)، ذلك الغصنُ يَجمَع ذَينِكَ الخوطين دون الأصل ويغذوهما، ألا ترى يا أمير المؤمنين أن أحد الخُوطين أقربُ إلى أخيه منه إلى الأصل؟ قال زيد: اضرب له أصل الشجرة مثلًا للجدّ، واضرب الغصن الذي تشعب من الأصل مثلًا للأب، واضرب الخُوطين اللذين تشعّبا من الغصن مثلًا للإخوة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (6/ 247) نے احمد بن عمرو بن السرح کے طریق سے، انہوں نے عبداللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ اور اسی مفہوم میں روایت کیا۔ پھر بیہقی نے کہا: "اس میں دوسروں نے ابن ابی الزناد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے خارجہ بن زید سے اور انہوں نے اپنے والد سے یہ اضافہ کیا ہے... زید نے کہا: میں نے اس بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک مثال بیان کی، میں نے کہا: اگر ایک درخت ہو جس کی جڑ سے ایک ٹہنی نکلے، پھر اس ٹہنی سے دو نرم شاخیں (خوطان) نکلیں؛ تو وہ ٹہنی ان دونوں شاخوں کو جڑ کے مقابلے میں زیادہ جمع کرتی ہے اور غذا دیتی ہے۔ اے امیر المومنین! کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ان دو شاخوں میں سے ایک شاخ اپنے بھائی (دوسری شاخ) کے زیادہ قریب ہے بنسبت جڑ کے؟ زید نے کہا: آپ درخت کی جڑ کی مثال دادا کے لیے سمجھیں، اور وہ ٹہنی جو جڑ سے پھوٹی اسے باپ کی مثال سمجھیں، اور وہ دو شاخیں جو ٹہنی سے نکلیں انہیں بھائیوں کی مثال سمجھیں۔"
وأخرج نحوه الدارقطني (4140)، والبيهقي 6/ 247 من طريق سعيد بن سليمان بن زيد بن ثابت، عن أبيه، عن جده.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے دارقطنی (4140) اور بیہقی (6/ 247) نے سعید بن سلیمان بن زید بن ثابت کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے۔
وانظر "مصنف عبد الرزاق" (19058)، و "سنن البيهقي" 6/ 247 - 248 من طريق الثوري، عن عيسى بن أبي عيسى المدني، عن الشعبي، قال: كان عمر كره الكلام في الجدّ حتى صار جدًّا … فذكر كلامًا طويلًا. وعيسى المدني متروك، والشعبي لم يسمع من عمر.
📖 حوالہ / مصدر: "مصنف عبدالرزاق" (19058) اور "سنن بیہقی" (6/ 247-248) میں ثوری کے طریق سے، انہوں نے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ المدنی سے اور انہوں نے شعبی سے روایت کیا کہ: "حضرت عمر رضی اللہ عنہ دادا (کی وراثت) کے بارے میں کلام کرنے کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ وہ خود دادا بن گئے..."، پھر لمبا کلام ذکر کیا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: عیسیٰ المدنی "متروک" ہے، اور شعبی نے حضرت عمر سے سماع نہیں کیا۔