المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. رد الصدقة ميراثا
صدقہ کیے گئے مال کا میراث بن کر واپس لوٹنا
حدیث نمبر: 8214
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن إبراهيم بن طَهْمان، عن سِمَاك، عن عِكرمة عن ابن عباس قال: اختَصَمُوا إلى عليٍّ في ولد المُلاعَنة، فجاء عَصَبةُ أبيه يَطلُبون ميراثه، فقال: إنَّ أباه قد كان تبرَّأَ منه، فأعطَى أمَّه المِيراثَ وجعلها عَصَبةً، ولم يُعطِهم شيئًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان موقوفًا على حكم أمير المؤمنين، فإنه غريبٌ من فتاويه وأحكامِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8016 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان موقوفًا على حكم أمير المؤمنين، فإنه غريبٌ من فتاويه وأحكامِه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8016 - صحيح غريب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ملاعنہ کے بچے کا فیصلہ آیا، اس کے باپ کے رشتہ دار اس کی وراثت لینے کے لیے آ گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے باپ نے تو اس بچے سے براءت کا اظہار کر دیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بچے کی ماں کو اس کی وراثت دی، اور اس کی ماں کو ہی اس بچے کا عصبہ بنایا اور بچے کے باپ کے رشتہ داروں کو کچھ نہیں دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث اگرچہ امیرالمومنین کے حکم تک موقوف ہے لیکن یہ ان کے فتاویٰ اور احکام کے حوالے سے غریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8214]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8214 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن وسلف الخبر والكلام عليه برقم (8188).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے؛ اور یہ خبر اور اس پر کلام پیچھے نمبر (8188) پر گزر چکا ہے۔