المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. رد الصدقة ميراثا
صدقہ کیے گئے مال کا میراث بن کر واپس لوٹنا
حدیث نمبر: 8218
وحدَّثَناه علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن محمد وعبد الله ابني أبي بكر بن محمد بن حَزْم، عن أبي بكر بن حَزْم: أنَّ عبد الله بن زيد بن عبد ربِّه جاء إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ حائطي هذا صدقةٌ، وهو الله ولرسوله، فجاء أبواه فقالا: يا رسولَ الله كان قِوامَ عَيشِنا، فردَّه رسولُ الله ﷺ عليهما، ثم ماتا فوَرِثَه ابنُهما بعدَهما (1) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين كذلك. وأصحُّ ما رُويَ في طرق هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8020 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين كذلك. وأصحُّ ما رُويَ في طرق هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8020 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوبکر بن حزم روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ باغ اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ ہے، ان کے والدین آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری گزر بسر کا واحد ذریعہ وہ باغ ہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان کے والدین کو واپس کر دیا، پھر ان کے والدین کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ وراثت میں ان کے بیٹے کو دے دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے طرق میں جتنی بھی مرویات ہیں، ان میں سب سے زیادہ صحیح درج ذیل حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8218]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8218 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن بطرقه كسابقه. وهو مكرر ما سلف برقم (5538).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے (دیگر) طرق کی بنا پر "حسن" ہے، جیسا کہ اس سے پچھلی حدیث تھی۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ نمبر (5538) پر گزرنے والی روایت کا تکرار ہے۔