🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. أثقل الصلوات على المنافقين صلاة العشاء وصلاة الفجر
منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830
فأخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى الخازن، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنْجاني، حدثنا محمد بن خلَّاد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، حدثنا أبو إسحاق، عن عبد الله بن أبي بَصِير؛ قال شعبة: قال أبو إسحاق: قد سمعتُه منه ومن أبيه عن أُبيِّ قال: صلَّى رسول الله ﷺ الصبحَ، وذكر الحديث (3) . وقد حَكَمَ أئمةُ الحديث: يحيى بنُ مَعِين وعليُّ بن المَدِيني ومحمدُ بن يحيى الذُّهْلي وغيرُهم لهذا الحديث بالصِّحة.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی (اور وہی واقعہ پیش آیا)۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ائمہ حدیث یحییٰ بن معین، علی بن مدینی اور محمد بن یحییٰ نے اس حدیث کی صحت کا حکم لگایا ہے۔ یحییٰ بن معین کے نزدیک شعبہ کی روایت زہیر سے زیادہ پختہ ہے، اور علی بن مدینی کے نزدیک ابو اسحاق کا سماع عبد اللہ بن ابی بصیر اور ان کے والد دونوں سے ثابت ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس میں اسناد کا اختلاف ہے مگر یہ حدیث ائمہ کے نزدیک محفوظ اور صحیح ہے، جبکہ شیخین نے صرف اس اختلاف کی وجہ سے اسے ترک کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 830]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 830 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) أخرجه البيهقي 3/ 68 من طريق محمد بن أبي بكر المقدَّمي، عن يحيى بن سعيد - وقرن به خالد بن الحارث - بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه ابن خزيمة (1477) عن بندار محمد بن بشار، عن يحيى بن سعيد - وقرن به محمد بن جعفر - به. إلّا أنه لم يذكر فيه قول شعبة عن أبي إسحاق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے محمد بن ابی بکر المقدمی عن یحییٰ بن سعید کی سند سے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ (1477) نے اسے یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر (غندر) کی سند سے روایت کیا ہے مگر اس میں شعبہ کا قول مذکور نہیں ہے۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830M1
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّورِيَّ يقول: سمعت يحيى بنَ مَعين يقول: حديث أبي إسحاق عن أبي بَصِير عن أُبيِّ بن كعب هذا يقوله زهيرُ بن معاوية، وشعبةُ يقول: عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي بَصِير وعن أبيه عن أُبيِّ بن كعب، فالقول قولُ شعبة، وهو أثبتُ من زهير. 2/
امام علی بن مدینی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے بارے میں، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد پوچھا تھا: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» "کیا فلاں شخص حاضر ہے؟ فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کی سند میں راویوں کے حوالے سے کلام کیا گیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 830M1]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830M2
أخبرنا الحسن بن محمد المِهْرجاني، حدثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن المَدِيني، في حديث أُبيِّ بن كعب: أنَّ النبي ﷺ صلى الصبحَ فقال:"أشاهدٌ فلانٌ؟": رواه أبو إسحاق عن شيخ لم يسمع منه غيرَ هذا، وهو عبد الله بن أبي بَصِير، وقد قال شعبة عن أبي إسحاق: إنه سمع من أبيه ومنه، وقال أبو الأحوص عن أبي إسحاق: عن العَيْزار بن حُرَيث، وما أرى الحديثَ إِلّا صحيحًا. 3/
امام علی بن مدینی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے بارے میں، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد پوچھا تھا: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» "کیا فلاں شخص حاضر ہے؟" فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس کی سند میں راویوں کے حوالے سے کلام کیا گیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 830M2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830M3
سمعت أبا بكر بن إسحاق الفقيه يقول: سمعت إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي يقول: سمعت عليَّ بن المَدِيني يقول: قد سَمِعَ أبو إسحاق من عبد الله بن أبي بَصيِر ومن أبيه أبي بَصِير. 4/
امام علی بن مدینی کی تحقیق کے مطابق اس حدیث کے مرکزی راوی ابو اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بصیر اور ان کے والد ابو بصیر دونوں سے براہِ راست سماع کیا ہے، لہذا سند میں کوئی انقطاع نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 830M3]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830M4
حدثنا أبو بكر بن إسحاق قال: سمعت عبد الله بن محمد المديني يقول: سمعت محمد بن يحيى يقول: روايةُ يحيى بن سعيد وخالد بن الحارث عن شعبة، وقولُ أبي الأحوص عن أبي إسحاق عن العَيْزار بن حُريث، كلُّها محفوظة. فقد ظَهَرَ بأقاويل أئمة الحديث صحةُ الحديث، وأما الشيخان فإنهما لم يُخرجاه لهذا الخلاف!
امام محمد بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی تمام مختلف اسناد محفوظ اور درست ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ جلیل القدر ائمہ حدیث کے ان اقوال سے اس حدیث کی صحت پوری طرح ثابت ہو چکی ہے، جبکہ شیخین نے اسے اپنی کتب میں صرف اس لیے جگہ نہیں دی کیونکہ اس کی سند کے بعض ناموں میں بظاہر اختلاف نظر آتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 830M4]