المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. نهى النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - أن يقوم الإمام فوق ويبقى الناس خلفه
رسولُ اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے نیچے رہیں۔
حدیث نمبر: 855
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا زكريا بن يحيى، حدثنا زياد بن عبد الله، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام قال: صلَّى حذيفةُ بالناس بالمدائن فتقدَّم فوقَ دكَّانٍ، فأخذ أبو مسعود بمَجامِع ثيابِه فمَدَّه، فَرَجَعَ، فلما قَضَى الصلاةَ قال له أبو مسعود: ألم تَعلَمْ أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى أن يقومَ الإمامُ فوقُ ويبقى الناسُ خلفَه؟ قال: فلَمْ تَرَني أجبتُك حين مَدَدتَني؟ (1)
ہمام بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک چبوترے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھائی، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے کپڑے پکڑ کر انہیں نیچے کھینچا جس پر وہ پیچھے ہٹ آئے، جب نماز مکمل ہوئی تو ابو مسعود نے کہا: ”کیا آپ کو علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ امام اونچی جگہ کھڑا ہو اور لوگ اس کے پیچھے (نیچی جگہ) ہوں؟“ حذیفہ نے کہا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب آپ نے مجھے کھینچا تو میں نے آپ کی بات مان لی تھی؟“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 855]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 855 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل زياد بن عبد الله: وهو البكّائي. وانظر ما قبله.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) زیاد بن عبداللہ البکائی کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔