المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. ذكر خطبة النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - من الفجر إلى المغرب
نبی کریم ﷺ کے فجر سے مغرب تک کے طویل خطبے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8708
حدثنا أبو جعفر محمد بن خُزَيمة الكَشَّي بنَيسابورَ من كتابه، حدثنا عَبْد بن حُميد الكَشِّي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عَزْرة بن ثابت، حدثنا عَلْباءُ بن أحمرَ، حدثنا أبو زيد الأنصاري قال: صلَّى بنا رسول الله ﷺ الصبحَ، فَخَطَبَنا إلى الظُّهر، ثم نَزَلَ فصلَّى الظهر، ثم خَطَبَنا إلى العصر، فنَزَلَ فصلَّى العصر، ثم صَعِدَ فخَطَبَنا إلى المغرب، وحدَّثَنا بما هو كائنٌ، فأعلمُنا أحفظُنا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8498 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8498 - صحيح
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ظہر تک خطبہ دیا، پھر منبر سے نیچے تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نماز عصر تک پھر خطبہ دیا، پھر عصر کے لئے نیچے تشریف لائے، نماز پڑھا کر، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مغرب تک آپ خطبہ دیتے رہے، اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بعد میں آنے والے تمام واقعات بیان کر دیے، چنانچہ جس نے اس دن کی باتیں جتنی زیادہ یاد رکھیں، وہ اتنا ہی بڑا عالم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8708]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8708 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عاصم النبيل: هو الضحاك بن مخلد، وأبو زيد الأنصاري: اسمه عمرو بن أخطب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کا تعین: "ابو عاصم نبیل" سے مراد ضحاک بن مخلد ہیں، اور "ابو زید انصاری" کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
وأخرجه أحمد 37/ (22888)، ومسلم (2892)، وابن حبان (6638) من طريق أبي عاصم، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (37/ 22888)، مسلم (2892) اور ابن حبان (6638) نے ابو عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا امام حاکم کا اسے مستدرک قرار دینا ان کا ذہول (بھول) ہے۔