المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
124. ذكر خمس بلاء أعاذ النبى صلى الله عليه وآله وسلم منها للمسلمين
ان پانچ بلاؤں کا تذکرہ جن سے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے لیے پناہ مانگی
حدیث نمبر: 8836
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا يحيى بن آدم حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن محمد بن عبد الله مولى المغيرة بن شُعْبة، عن كعب بن علقمة [عن] (1) ابن حُجَيرة، عن عُقْبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"تَطلُعُ عليكم قبل الساعة سحابةٌ سوداءُ من قِبَل المغرب مثلُ التُّرْس، فما تزالُ ترتفعُ في السماء حتى تملأ السماءَ، ثم ينادي منادٍ: يا أيها الناس، فيُقبِلُ الناسُ بعضُهم على بعض: هل سمعتُم؟ فمنهم من يقول: نعم، ومنهم من يشكُّ، ثم ينادي الثانيةَ: يا أيها الناس، فيقول الناس: هل سمعتم؟ فيقولون: نعم، ثم ينادي: أيها الناس، أتى أمرُ الله فلا تَستعجِلوه"، قال رسول الله ﷺ:"فوالذي نَفْسي بيدِه، إنَّ الرَّجُلين ليَنشُرانِ الثوبَ فما يَطويانِه أو يتبايعانِه أبدًا، وإنَّ الرجلَ ليَمدُرُ حوضَه فما يسقي فيه شيئًا، وإنَّ الرجل ليحلُبُ ناقتَه فما يشربُه أبدًا، وشُغِلَ الناسُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8622 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8622 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت سے پہلے مغرب کی جانب سے ڈھال کی مانند سیاہ بادل نمودار ہو گا۔ وہ آسمان میں پھیلتا رہے گا حتی کہ پورے آسمان کو گھیر لے گا، پھر ایک منادی آواز دے گا: اے لوگو! یہ سن کر لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے آواز سنی؟ کوئی کہے گا: ہاں سنی ہے، اور کسی کو شک ہو گا۔ منادی دوبارہ آواز دے گا: اے لوگو! لوگ پھر ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ تم نے آواز سنی؟ سب کہیں گے: ہاں سنی ہے۔ منادی پھر کہے گا: اے لوگو! اللہ کا حکم آن پہنچا ہے، اب جلدی مت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دو آدمی (خرید و فروخت کے لئے) کپڑا پھیلائیں گے لیکن وہ اس کو نہ لپیٹ سکیں گے اور نہ اس کو بیچ سکیں گے، کوئی شخص اپنا حوض پانی سے بھرے گا لیکن اس سے پی نہیں سکے گا، کوئی شخص اونٹنی کا دودھ دوہے گا لیکن اس کو پی نہیں سکے گا، لوگ (قیامت کے معاملے میں) مشغول ہو جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8836]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8836 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقطت من النسخ الخطية.
📝 نوٹ / توضیح: یہ قلمی نسخوں سے ساقط ہو گیا تھا۔
(2) إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عبد الله مولى المغيرة، فقد تفرَّد بالرواية عنه أبو بكر بن عياش، وذكره ابن حبان في "الثقات" 7/ 433 وسمّاه محمدَ بن عبيد الثقفي مولى المغيرة، وتساهل الهيثمي في "مجمع الزوائد" 10/ 331 فوثقه ابن حجيرة: هو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند محمد بن عبداللہ مولیٰ المغیرہ کی "جہالت" (غیر معروف ہونے) کی وجہ سے "ضعیف" ہے، کیونکہ ان سے روایت کرنے میں ابوبکر بن عیاش منفرد ہیں۔ ابن حبان نے "الثقات" (7/ 433) میں ان کا ذکر کیا ہے اور نام "محمد بن عبید الثقفی مولی المغیرہ" لکھا ہے۔ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (10/ 331) میں تساہل سے کام لیتے ہوئے ان کی توثیق کر دی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن حجیرہ سے مراد "عبدالرحمن" ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 17/ (899) من طريق أبي كريب، عن يحيى بن آدم، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن أبي الدنيا في "الأهوال" (25) من طريق محمد بن عمر الواقدي، عن هشام بن سعد، عن سعيد بن أبي هلال، عن ابن حجيرة، به. والواقدي متكلَّم فيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (17/ 899) میں ابو کریب عن یحییٰ بن آدم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی الدنیا نے "الاہوال" (25) میں محمد بن عمر الواقدی عن ہشام بن سعد عن سعید بن ابی ہلال عن ابن حجیرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور واقدی "متکلم فیہ" (جس پر محدثین نے کلام/جرح کی ہو) ہے۔
والشطر الثاني من الحديث صحيح لغيره، فقد روي عن أبي هريرة عند البخاري (6506) ومسلم (2954)، وانظر "مسند أحمد" 14/ (8824).
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث کا دوسرا حصہ "صحیح لغیرہ" ہے، کیونکہ وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بخاری (6506) اور مسلم (2954) میں مروی ہے۔ مسند احمد (14/ 8824) بھی دیکھیں۔
قوله: "ليمدر حوضه" أي: يصلحه بالمَدَر، وهو الطِّين.
📝 نوٹ / توضیح: قول "لیمدر حوضہ" کا معنی ہے: وہ اپنے حوض کو "مدر" یعنی گیلی مٹی (گارے) سے لیپ کر درست کرے۔