المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ينتظر صاحب الصور متى يؤمر بنفخه
صور پھونکنے والا فرشتہ (سیدنا اسرافیل علیہ السلام) اس انتظار میں ہے کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم دیا جائے
حدیث نمبر: 8888
حدثنا عبد الله بن سَعْد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب وإبراهيم بن إسحاق وجعفر بن أحمد الحافظ قالوا: حدثنا نَصْر بن علي، حدثنا محمد بن مروان، حدثنا عُمارة بن أبي حَفْصة، عن زيد العَمِّي، عن أبي الصِّدّيق الناجيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"يكون في أمَّتي المهديُّ، إن قَصُرَ فسبعٌ وإلَّا فتِسعٌ، تَنعَمُ أمّتي فيه نعمةً لم ينعموا مثلَها قطُّ، تُؤْتي الأرضُ أُكُلَها لا تَدَّخِرُ عنهم شيئًا، والمالُ يومئذٍ كُدُوسٌ، يقوم الرجلُ فيقول: يا مهديُّ، أعطِني، فيقول: خُذْ" (3) . [آخر كتاب الفتن] قال الحاكم ﵀: قد رَوَيتُ ما انتهى إليه عِلْمي من فِتَن آخر الزَّمان على لسان المصطفى ﷺ بالأسانيدِ اللائقةِ بشَرْط هذا الكتاب، فأمَّا الشيخانِ ﵄ فإنهما ذَكَرا أهوالَ القيامةِ والحَشْرِ مُدرَجًا في الفِتَن، وجَرَيتُ أنا في ذلك على اختيار الإمام أبي بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة ﵁ في إفراد ذلك عن الفِتَنِ الدُّنَائيّة (1) ، والله الموفِّقُ لما اخترتُه، وهو حَسْبي ونِعمَ الوكيلُ. [كتاب الأهوال] ﷽ قال اللهُ ﵎: ﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ (87) وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً﴾ الآية [النمل: 87 - 88] . وقال عزَّ مِن قائل: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [الزمر: 68] .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں مہدی ہو گا، كم از كم سات ہوں گے اور زیادہ ہوئے تو 9 ہوں گے۔ اس وقت میری امت كو اس قدر نعمتیں ملیں گی جو اس سے پہلے كبھی نہیں ملی ہوں گی، زمین اپنا سب كچھ اگل دے گی اور كچہ بھی بچا كر نہیں ركھے گی، ان دنوں مال کے ڈھیر لگے ہوئے ہوں گے، ایک آدمی اٹھ كر كھڑا ہو گا اور كہے گا: اے مہدی مجھے كچھ عطا كرو، وہ كہے گا: یہ لو۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: آخری زمانے میں برپا ہونے والے فتنوں کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس قدر احادیث میرے علم میں تھیں اور وہ اس کتاب کے معیار کی تھیں، میں نے بیان کر دی ہیں، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے قیامت اور حشر کے اہوال فتنوں کے باب میں بیان کئے ہیں، اس بارے میں نے امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کا طریقہ اپنایا ہے، جس طرح انہوں نے فتن کے ابواب کو الگ بیان کیا ہے میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ جو کچھ میں نے اختیار کیا ہے اس کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی عطا کرنے والا ہے۔ وہی مجھے کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8888]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8888 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لضعف زيد العمِّي. نصر بن علي هو الجهضمي، ومحمد بن مروان: هو العقيلي. وأخرجه ابن ماجه (4083) عن نصر بن علي بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "زید العمی" کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نصر بن علی سے مراد الجہضمی اور محمد بن مروان سے مراد العقیلی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4083) نے نصر بن علی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 17/ (11163)، والترمذي (2232) من طريق شعبة، وأحمد (11212) من طريق موسى الجهني، كلاهما عن زيد العمي به. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسی جیسی روایت امام احمد (17 / 11163) اور ترمذی (2232) نے شعبہ کے طریق سے، اور امام احمد (11212) نے موسیٰ الجہنی کے طریق سے نکالی ہے، یہ دونوں زید العمی سے روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔
(1) هكذا في نسخنا الخطية، وفي نسختين متأخرتين كما في طبعة الميمان: الدنيائية. وهذه النسبة إلى الدنيا.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ اسی طرح ہے، جبکہ دو متاخر نسخوں (جیسا کہ میمن ایڈیشن میں ہے) میں "الدنیائیۃ" ہے، یہ دنیا کی طرف نسبت ہے۔