المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ينتظر صاحب الصور متى يؤمر بنفخه
صور پھونکنے والا فرشتہ (سیدنا اسرافیل علیہ السلام) اس انتظار میں ہے کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم دیا جائے
حدیث نمبر: 8890
أخبرني أبو الحسن علي بن محمد القرشي بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أسباطُ بن محمد القُرَشي، حدثنا مُطرِّف بن طَريف الحارثي، عن عطيَّة، عن ابن عبَّاس، في قوله ﷿: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ﴾ [المؤمنون: 101] قال رسول الله ﷺ:"كيف أَنعَمُ وصاحبُ الصُّورِ قد الْتقَمَ القَرْنَ، وَحَنَى جبهتَه، وأَصغَى بسمعِه!" قال أصحاب رسول الله ﷺ: كيف نقولُ يا رسولَ الله؟ قال:"قولوا: حَسْبُنَا الله ونِعم الوكيلُ، على الله توكَّلْنا" (1) مدارُ هذا الحديث على عطيَّة بن سعد العَوْفِي ﵀، وهو كبيرُ المَحَلِّ في أقرانه من التابعين، ولم يُخرج عنه الشيخان ﵄ في"الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8677 - عطية ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8677 - عطية ضعيف
سیدنا عطیہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَإذَا نُفِخَ فِی الصُّور کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے، کہ میں آسودہ حال کیسے رہ لوں؟ حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور ہاتھ میں لئے ہوئے ہے، اپنی پیشانی کو جھکائے ہوئے ہے اور اپنی سماعتوں کو متوجہ کئے ہوئے ہے کہ نہ جانے کب صور پھونکنے کا حکم دے دیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا کہا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہا کرو ” ہمیں اللہ کافی ہے، اور وہ بہتر کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے۔“ ٭٭ اس حدیث کا مدار سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8890]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8890 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عطية - وهو ابن سعد العَوْفِي - وقد كان يضطرب فيه، فمرةً يرويه عن ابن عباس كما وقع للمصنف هنا، ومرةً أخرى عن أبي سعيد الخدري كما سيأتي في لاحقه، ومرة ثالثة يرويه عن زيد بن أرقم كما وقع عند أحمد في "المسند" 32/ (19345) وغيره، وأصحها حديث أبي سعيد الخدري لمجيئه في رواية أخرى من غير طريقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں عطیہ (ابن سعد العوفی) ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عطیہ العوفی اس حدیث میں اضطراب کا شکار ہوئے ہیں؛ کبھی وہ اسے ابن عباس سے روایت کرتے ہیں (جیسا کہ مصنف کے ہاں یہاں ہے)، اور کبھی ابوسعید خدری سے (جیسا کہ آگے آئے گا)، اور تیسری مرتبہ وہ اسے زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ امام احمد کی "المسند" (32/ 19345) وغیرہ میں ہے۔ ان سب میں زیادہ صحیح "ابوسعید خدری" والی روایت ہے کیونکہ وہ دوسرے طریق (سند) سے بھی مروی ہے۔
وأما حديث ابن عباس فقد أخرجه أحمد 5/ (3008) عن أسباط بن محمد، بهذا الإسناد. وانظر تتمة تخريجه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: جہاں تک ابن عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث کا تعلق ہے تو اسے امام احمد نے (5 / 3008) میں اسباط بن محمد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس کی تخریج کا بقیہ حصہ وہاں دیکھ لیں۔