🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. ذكر عرض الأنبياء بأتباعهم على نبينا صلى الله عليه وآله وسلم
انبیاء علیہم السلام کا اپنے متبعین کے ساتھ ہمارے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیے جانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8935
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا الفضل بن عيسى الرَّقَاشي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ العارَ لَيَلزَمُ المرءَ يومَ القيامة حتى يقول: يا ربِّ، لإَرسالُك بي إلى النار، أُيسرُ عليَّ ممّا أَلقَى، وإنه لَيعلمُ ما فيها من شدَّةِ العذاب" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8720 - الفضل واه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر آدمی کو اپنے دنیا کے حقوق ادا کرنے پڑیں گے (اور اس معاملہ میں انسان اس قدر پریشان ہو جائے گا کہ) بندہ کہے گا: اے میرے رب میں اس وقت جس مصیبت میں گرفتار ہوں، اگر تو مجھے دوزخ میں بھیج دے تو میرے لئے اس میں آسانی رہے گی، حالانکہ وہ دوزخ کے عذاب کو اچھی طرح جانتا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8935]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8935 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل الفضل بن عيسى، فإنه واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه". وأخرجه البزار (3423) - كشف الأستار) عن محمد بن منصور الطوسي، عن عبد الوهاب بن عطاء، بهذا الإسناد. وقال فيه: "إنَّ العرق ليلزم المرء … ".
⚖️ درجۂ حدیث: فضل بن عیسیٰ کی وجہ سے اس کی سند "بہت زیادہ ضعیف" ہے، کیونکہ وہ "واہی" (کمزور ترین) راوی ہے جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (3423 - کشف الاستار) نے محمد بن منصور طوسی سے، انہوں نے عبد الوہاب بن عطاء سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا۔ اس میں الفاظ ہیں: "بے شک پسینہ آدمی کو چمٹ جائے گا..."
وأخرجه حسين المروزي في زياداته على "زهد ابن المبارك" (1320)، وأبو يعلى في "مسنده" (1776)، وابن عدي في "الكامل" 6/ 13 من طريق معتمر بن سليمان، عن الفضل بن عيسى، به. وفي حديثه: "إنَّ العار والخزية ....
📖 حوالہ / مصدر: اسے حسین المروزی نے "زہد ابن مبارک" (1320) پر اپنی زیادات میں، ابو یعلیٰ نے "المسند" (1776) اور ابن عدی نے "الکامل" (6/ 13) میں معتمر بن سلیمان کے طریق سے، فضل بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ان کی حدیث میں الفاظ ہیں: "بے شک عار اور رسوائی..."