المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
حدیث نمبر: 8967
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هِنْد، عن عبد الله بن قيس قال: كنت أرفعُ القضاءَ إلى أبي بُرْدةَ، فكنت عنده فدخل عليه الحارثُ بنُ أُقيشٍ (1) ، وكانت له صُحْبة، فحَدَّث ليلتَئذٍ عن النبي ﷺ قال:"ما من مُسلمين (2) يموت لهما أربعةٌ، إلَّا أدخلهم الله الجنةَ بفَضْل رحمتِه إيَّاهما قلنا: يا رسول الله، وثلاثةٌ؟ قال:"وثلاثةٌ" قلنا: يا رسول الله، واثنانِ؟ قال:"واثنانِ" ثم قال:"إنَّ من أمَّتي لَمَن يُعظَّم للنّار حتى يكونَ أحدَ زواياها، وإنَّ من أمتي لَمَن يَدخُل بشفاعتِه الجنةَ أكثرُ من مُضَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ابوبردہ کے پاس مقدمات (فیصلے کے لیے) لے جایا کرتا تھا۔ ایک روز میں ان کے پاس تھا کہ حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اور انہیں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی سے دو مسلمان ایسے نہیں جن کے چار بچے فوت ہو جائیں، مگر اللہ اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر تین ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تین ہوں تب بھی۔“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دو ہوں تب بھی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میری امت میں سے کسی (نافرمان) کو جہنم کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کے کونوں میں سے ایک کونا بن جائے گا، اور بلاشبہ میری امت میں سے ایک شخص ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے قبیلہ مضر کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔“
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8967]
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8967]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (239)» [ترقيم الرساله 8967] [ترقيم الشركة 8858] [ترقيم العلميه 8752]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8967 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى قيس.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نام) تحریف ہو کر "قیس" بن گیا ہے۔
(2) في النسخ: المسلمين، والمثبت من "التلخيص".
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں "المسلمین" ہے، جبکہ ہم نے جو متن ثابت کیا ہے وہ "تلخیص" سے لیا گیا ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (239).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند "حسن" قرار دیے جانے کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ پچھلی روایت نمبر (239) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔
وأبو بُرْدة المذكور: هو ابن أبي موسى الأشعري، وكان قاضي الكوفة للحجّاج. ووقع في بعض المصادر التي خرَّجت الحديث: أبو بَرْزة، وهو تحريف، فإنَّ أبا برزة - وهو الأسلمي - لا يعرف أنه تولَّى القضاء.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مذکورہ "ابو بردہ" سے مراد "ابن ابی موسیٰ الاشعری" ہیں، جو حجاج کی طرف سے کوفہ کے قاضی تھے۔ جن مصادر نے اس حدیث کی تخریج کی ہے ان میں سے بعض میں (نام) "ابو برزہ" واقع ہوا ہے جو کہ تحریف ہے؛ کیونکہ ابو برزہ - جو الاسلمی ہیں - ان کے بارے میں یہ معروف نہیں کہ وہ کبھی عہدہ قضا پر فائز ہوئے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8967 in Urdu