🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8967
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هِنْد، عن عبد الله بن قيس قال: كنت أرفعُ القضاءَ إلى أبي بُرْدةَ، فكنت عنده فدخل عليه الحارثُ بنُ أُقيشٍ (1) ، وكانت له صُحْبة، فحَدَّث ليلتَئذٍ عن النبي ﷺ قال:"ما من مُسلمين (2) يموت لهما أربعةٌ، إلَّا أدخلهم الله الجنةَ بفَضْل رحمتِه إيَّاهما قلنا: يا رسول الله، وثلاثةٌ؟ قال:"وثلاثةٌ" قلنا: يا رسول الله، واثنانِ؟ قال:"واثنانِ" ثم قال:"إنَّ من أمَّتي لَمَن يُعظَّم للنّار حتى يكونَ أحدَ زواياها، وإنَّ من أمتي لَمَن يَدخُل بشفاعتِه الجنةَ أكثرُ من مُضَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ابوبردہ کے پاس مقدمات (فیصلے کے لیے) لے جایا کرتا تھا۔ ایک روز میں ان کے پاس تھا کہ حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے، اور انہیں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی) صحبت کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی سے دو مسلمان ایسے نہیں جن کے چار بچے فوت ہو جائیں، مگر اللہ اپنی رحمت کے فضل سے ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر تین ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تین ہوں تب بھی۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور اگر دو ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو ہوں تب بھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میری امت میں سے کسی (نافرمان) کو جہنم کے لیے اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ وہ اس کے کونوں میں سے ایک کونا بن جائے گا، اور بلاشبہ میری امت میں سے ایک شخص ایسا بھی ہوگا جس کی شفاعت سے قبیلہ مضر کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
اس حدیث کی سند امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8967]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما سبق بيانه عند الرواية السالفة برقم (239)» [ترقيم الرساله 8967] [ترقيم الشركة 8858] [ترقيم العلميه 8752]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8968
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن مَندَهْ الأصبهاني، حدثنا بكر بن بكَّار، حدثنا جَسْر (4) بن فَرقَد حدثنا الحسن، عن أنس بن مالك قال: سمعت النبي ﷺ يقول:"ناركم هذه جزءٌ من سبعين جزءًا من نار جهنَّم، ولولا أنها غُمِسَت في الماء مرَّتين ما استمتعتُم بها، وايْمُ الله إن كانت لكافيةً، وإنها لَتدعُو الله وتستجيرُ الله أن لا يعيدَها في النار أبدًا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8753 - حسن واه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہاری یہ (دنیا کی) آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر اسے دو مرتبہ پانی میں نہ بجھایا گیا ہوتا تو تم اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتے۔ اور اللہ کی قسم! اگرچہ یہ (پہلے والی) ہی کافی تھی، لیکن اب بھی یہ اللہ سے دعا کرتی ہے اور اس سے پناہ مانگتی ہے کہ وہ اسے دوبارہ کبھی اس (جہنم کی) آگ میں نہ لوٹائے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8968]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا مسلسل، بالضعفاء: محمد بن منده وشيخه بكر وشيخه جسر بن فرقد وأضعفهم جسر، وقد وهّاه الذهبي في تلخيصه"» [ترقيم الرساله 8968] [ترقيم الشركة 8859] [ترقيم العلميه 8753]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا مسلسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8969
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج أبي السَّمْح، أنه سمع عبد الله بن الحارث بن جَزْءٍ الزُّبَيدي، صاحبَ النبي ﷺ، يقول عن رسول الله ﷺ:"إنَّ في النار لحيّاتٍ مثلَ أعناق البُخْت، يَلسَعَن أحدَهم اللَّسعةَ فيجدُ حَمْوَها أربعين خريفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8754 - صحيح
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جہنم میں بختی (خراسانی) اونٹوں کی گردنوں جیسے (موٹے اور لمبے) سانپ ہوں گے، ان میں سے کوئی سانپ جب کسی (جہنمی) کو ایک بار ڈسے گا تو وہ اس کی جلن اور درد چالیس سال تک محسوس کرے گا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8969]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لتفرد، دراج أبي السمح به، وهو إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد» [ترقيم الرساله 8969] [ترقيم الشركة 8860] [ترقيم العلميه 8754]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لتفرد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8970
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا بِشْر بن عُمر (2) الزهراني، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن عبد الله بن مُرَّة، عن مسروق، عن عبد الله في قول الله ﷿ ﴿زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ﴾ [النحل:88] ، قال: عقاربُ أنيابُها كالنخل الطِّوال (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8755 - على شرط البخاري ومسلم
مسروق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ﴾ ہم انہیں عذاب پر عذاب زیادہ کرتے جائیں گے۔ [سورة النحل: 88] کے متعلق فرمایا: (اس عذاب سے مراد وہ) بچھو ہیں جن کے ڈنک طویل کھجور کے درختوں جیسے ہوں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8970]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل أبي قلابة وهو عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، وسليمان: هو ابن: مهران الأعمش» [ترقيم الرساله 8970] [ترقيم الشركة 8861] [ترقيم العلميه 8755]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں