المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
حدیث نمبر: 8966
أخبرني أبو جعفر محمد بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة من أصل كتابه، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة الغفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، حدثنا يزيد بن عبد الرحمن أبو خالد الدَّالَاني، حدثنا المِنهال بن عمرو، عن أبي عُبَيدة عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يَجمَعُ الله الناسَ يومَ القيامة، فينادي منادٍ: يا أيها الناس، ألم ترضَوا من ربِّكم الذي خلقكم وصوِّركم ورَزَقكم أن يُولّيَ كلَّ إنسانٍ ما كان يعبدُ في الدنيا ويتولَّى، أليس ذلك عَدْلٌ من ربِّكم؟ قالوا: بلى، قال: فينطلقُ كلُّ إنسانٍ منكم إلى ما كان يتولَّى في الدنيا، ويُمثَّلُ لهم ما كانوا يَعبُدون في الدنيا، وقال: يُمثَّلُ لمن كان يعبدُ عيسى شيطانُ عيسى، ويُمثَّل لمن كان يعبدُ عُزَيرًا شيطانُ عُزير، حتى يُمثَّلَ لهم الشجرُ والعودُ والحجرُ، ويبقى أهلُ الإسلام جُثومًا، فيقول لهم: ما لكم لم تَنطلِقوا كما انطلق الناس؟ فيقولون: إنَّ لنا ربًّا ما رأَيناه بعدُ، قال: فيقول: فبِمَ تعرفون ربَّكم إن رأيتُموه؟ قالوا: بيننا وبينَه علامةٌ، إنْ رأيَناه عَرَفْناه، قال: وما هي؟ (1) فيُكشَف عن ساقٍ قال: فيَخِرُّ (2) كلُّ من كان لظَهرِه طَبَقٌ ساجدًا، ويبقى قومٌ ظهورُهم كصَيَاصي بقرٍ، يريدون السجودَ فلا يستطيعون. قال: ثم يُؤمَرون فيَرفعون رؤوسهم، فيُعطَون نورهم على قَدْرِ أعمالهم، فمنهم من يُعطَى نورَه مثل الجبل بين يديه، ومنهم من يُعطَى نورَه دونَ ذلك، ومنهم من يُعطَى نورَه مثلَ النَّخْلة بيمينه، ومنهم من يُعطَى دون ذلك، حتى يكونَ آخرُ ذلك يُعطَى نورَه على إبهام قدمه، يُضيءُ مرّةً ويَطفَأُ مرّةً، فإذا أضاء قدَّم قدمه، وإذا طَفِئَ قام، فيمرُّون على الصِّراط، والصراطُ كحدِّ السيف، دَحْضٌ مَزَلَّةٌ، قال: فيقال انجُوا على قَدْر نورِكم، فمنهم من يمرُّ كانقِضَاض الكوكب، ومنهم من يمرُّ كالرِّيح، ومنهم من يمرُّ كشدِّ الرَّجُل ويَرمُل رَمَلًا، فيمرُّون على قَدْر أعمالهم، حتى يمرَّ الذي نورُه على إبهام قدمه، تَخِرُّ يدٌ وتَعلَقُ يدٌ، وتَخِرُّ رجلٌ وتَعلَقُ رجلٌ، فتصيبُ جوانبه النارُ. قال: فيَخلُصون، فإذا خَلَصُوا قالوا: الحمدُ لله الذي نجَّانا منكِ بعدَ إذ رأيناكِ، فقد أعطانا اللهُ ما لم يُعطِ أحدًا. فينطلقون إلى ضَحْضاحٍ (1) عند باب الجنة [فيغتسلون، فيعودُ إليهم ريحُ أهلِ الجنة وألوانهم، ويَرَونَ من خَلَلِ باب الجنة] (2) وهو مُصفَقٌ منزلًا في أدنى الجنة، فيقولون: ربَّنا أعطِنا ذلكَ المنزل، قال: فيقول لهم: تسألوني الجنةَ (3) وقد نَجَّيتُكم من النارِ؟! [فيقولون: ربَّنا، أعطناه، اجعَلْ بيننا وبين النار] هذا البابَ، لا [نسمعُ] حَسِيسَها، فيقول لهم: لعلَّكم إن أُعطِيتُموه أن تسألوني غيرَه؟ قال: فيقولون: لا وعزَّتِك لا نسألُك غيرَه، وأيُّ منزلٍ يكون أحسنَ منه؟ قال: فيُعطَوْهُ، فيُرفَعُ لهم أمامَ ذلك منزلٌ آخرُ، كأنَّ الذي أُعطُوه قبل ذلك حُلْمٌ عند الذي رأَوْا، قال: [فيقولون: ربَّنا، أَعطِنا ذلك المنزل، فيقول لهم: لعلَّكم إن أُعطِيتُموه أن تسألوني غيَره؟] فيقولون: لا وعزَّتِك لا نسألُك غيره، وأيُّ منزلٍ أحسنُ منه؟ ثم يَسكُتون، قال: فيقال لهم: ما لكم لا تَسألون؟ فيقولون: ربَّنا قد سألْنا حتى استَحْيَينا، قال: فيقول لهم: ألم تَرضَوا أني أعطيتُكم مثل الدنيا منذُ يومِ خلقتُها إلى يومِ أفنيتُها وعَشَرة أضعافها". قال: قال مسروق: فما بَلَغَ عبد الله هذا المكانَ من الحديث إِلَّا ضَحِكَ، قال: فقال له: رجل يا أبا عبد الرحمن، لقد حدَّثت بهذا الحديث مِرارًا، فما بلغتَ هذا المكان من هذا الحديث إلَّا ضحكت قال: فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يحدِّث بهذا الحديث مِرارًا، فما بلغ هذا المكان من هذا الحديث إلَّا ضحك حتى تَبدُوَ لَهَواتُه ويَبدُوَ آخرُ ضِرسٍ من أضراسه، لقول إنسان: [أتهزأُ بي وأنتَ المَلِكُ؟] (4) قال: فيقول الربُّ ﵎: لا، ولكنِّي على ذلك قادرٌ، فسَلُوني، قال: فيقولون: ربَّنا ألحِقْنا الناسَ [فيقول لهم: الحَقُوا الناسَ] (3) . قال: فينطلقون يَرمُلون في الجنة حتى يبدوَ للرجل منهم قصرٌ من دُرّةٍ مجوَّفةٍ، قال: فيَخِرُّ ساجدًا، قال: فيقال له: ارفَعْ رأسَك، فيَرفعُ رأسَه، فيقال: إِنَّما هذا منزلٌ من منازلِك، قال: فيَنطلقُ فيَستقبِلُه رجلٌ فيقول: أنت مَلِكٌ أو مَلَك؟ فيقال: إنما ذلك قَهرمانٌ من قَهارِمتِك، عبدٌ من عبيدِك، قال: فيأتيه فيقول: إنما أنا قَهرمانٌ من قهارمتِك على هذا القصر، تحت يدي ألفُ قَهرمان، كلُّهم على ما أنا عليه، قال: فيَنطلِق به عند ذلك حتى يفتحَ القصر، وهو دُرَّةٌ مجوَّفةٌ سقائفُها وأبوابُها وأغلاقُها ومفاتيحُها منها، فيفتحُ له القصر، فيستقبلُه جوهرةٌ خضراءُ مبطَّنةٌ بحمراءَ سبعون ذراعًا، فيها ستون بابًا، كلُّ بابٍ يُفْضي إلى جوهرة واحدة على غير لون صاحبتها، في كلِّ جوهرةٍ سُرُرٌ وأزواجٌ وتصاريفُ - أو قال: ووصائف (1) قال: فيدخل فإذا هو بحَوْراءَ عَيناءَ عليها سبعون حُلَّةً، يُرى مخ ساقها من وراء حُلَلِها، كَبِدُها مِرآتُه وكَبِدُه مِرأتُها، إذا أعرض عنها إعراضةً ازدادت في عينه سبعين ضِعفًا [عمَّا كان قبلَ ذلك، فيقول: لقد ازدَدتِ في عيني سبعين ضِعفًا] (2) وتقول له مثل ذلك، قال: فيُشرِفُ ببصرِه على مُلكِه مسيرةَ مئةِ عام. قال: فقال عمرُ عند ذلك: يا كعبُ، ألا تسمعُ إلى ما يحدِّثُنا ابن أمِّ عبدٍ عن أدنى أهلِ الجنة ما له، فكيف بأعلاهم؟ قال: يا أمير المؤمنين، ما لا عينٌ رأت، ولا أُذنٌ سَمِعَت، إنَّ الله كان فوق العرشِ والماءِ فخلق لنفسِه دارًا بيده، فزَيَّنَها بما شاء، وجعل فيها من الثَّمَرات والشَّراب، ثم أطبَقَها فلم يرها أحدٌ من خلقه منذُ يوم خَلَقَها، جبريلُ ولا غيرُه من الملائكة؛ ثم قرأَ كعبٌ: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ﴾ [السجدة: 17] ، وخلق دونَ ذلك جنَّتين، فزَيَّنَهما بما شاء، وجعل فيهما ما ذَكَرَ من الحرير والسُّندُس والإستبرَق، وأَراهما من شاء من خلقِه من الملائكة، فمن كان كتابُه في عِلِّيِّينَ يُرَى في تلك الدار، فإذا رَكِبَ الرجلُ من أهل عِلِّيِّين في مُلكِه لم يبقَ (1) خيمةٌ من خيام الجنة إلَّا دخلها من ضَوْء وجهه، حتى إنهم يستنشقون ريحَه ويقولون: واهًا لهذه الريح الطَّيِّبة، ويقولون: لقد أشرَفَ علينا اليوم رجلٌ من أهل عِليِّين، فقال عمر: وَيحَك يا كعبُ، إنَّ هذه القلوبَ قد استَرسَلَت فاقبِضْها، فقال كعب: يا أميرَ المؤمنين، إنَّ لجهنَّمَ زَفْرةً ما من مَلَكٍ مُقرَّب ولا نبيٍّ، إلَّا يَخِرُّ الرُكبتَيهِ، حتى يقولَ إبراهيمُ خليل الله: ربِّ نَفْسي نَفْسي، وحتى لو كان لك عملُ سبعين نبيًا إلى عملِك، لظننتَ أن لا تَنجُوَ منها (2) . رواةُ هذا الحديث عن آخرهم ثِقاتٌ، غيرَ أنهما لم يُخرِّجا أبا خالد الدَّالاني في"الصحيحين" لما ذُكِرَ من انحرافه عن السُّنة في ذِكْر الصحابة، فأما الأئمةُ المتقدِّمون فكلُّهم شَهِدوا لأبي خالد بالصدق والإتقان، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه، وأبو خالد الدَّالاني ممَّن يُجمَع حديثُه في أئمَّة أهل الكوفة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8751 - ما أنكره حديثا على جودة إسناده
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8751 - ما أنكره حديثا على جودة إسناده
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع فرمائے گا، پھر ایک منادی ندا دے گا: اے لوگو! کیا جس رب نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری صورت بنائی، تمہیں رزق دیا، تم اپنے اس رب پر اس بات پر راضی ہو کہ وہ ہر انسان کو اسی کا ساتھ بنا دے جس کی دنیا میں وہ عبادت کیا کرتا تھا اور جس کو اپنا والی سمجھتا تھا، کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے عدل نہیں ہو گا؟ سب کہیں گے: کیوں نہیں۔ پھر تم میں سے ہر انسان اس کی طرف چل پڑے گا جس کی دنیا میں وہ عبادت کیا کرتا تھا، اور ان کے دنیا کے معبودوں کو قیامت میں شکل دی جائے گی، جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کے شیطان کو ایک صورت میں ظاہر کیا جائے گا، اور جو لوگ سیدنا عزیر علیہ السلام کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے لئے سیدنا عزیر علیہ السلام کے شیطان کو ایک شکل میں پیش کیا جائے گا، حتی کہ درخت، عود اور پتھروں کو بھی شکلیں دی جائیں گی۔ صرف مسلمان باقی بچیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تمہیں کیا ہے؟ جیسے سب لوگ چلے گئے ہیں تم کسی طرف کیوں نہیں گئے؟ وہ کہیں گے: ہمارا بھی ایک رب ہے، ہم نے اس کو کبھی نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اگر تم اپنے رب کو دیکھ لو تو اس کو کیسے پہچانو گے؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس اپنے رب کی ایک نشانی ہے، اگر ہم اپنے رب کو دیکھیں تو اس نشانی کی بناء پر اس کو پہچان لیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ وہ نشانی کیا ہے؟ وہ کہیں گے: ساق (پنڈلی) پھر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق اپنی پنڈلی ظاہر فرمائے گا، کشف ساق ہوتے ہی سب لوگ سجدے میں گر پڑیں گے، کچھ لوگ باقی بچیں گے، ان کی پیٹھیں تانبے کی ایک سلیٹ کی مانند ہوں گی، یہ لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہ کر پائیں گے۔ پھر ان لوگوں کو حکم دیا جائے گا، یہ لوگ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق نور عطا کیا جائے گا، کچھ لوگوں کو پہاڑ کے برابر ان کے سامنے نور دیا جائے گا، کچھ لوگوں کو اس سے ذرا کم نور دیا جائے گا، کچھ لوگوں کو درخت جتنا نور دیا جائے گا اور وہ ان کے دائیں جانب ہو گا، کچھ لوگوں کو اس سے ذرا کم نور ملے گا، سب سے کم درجے کا نور پانے والے شخص کے پاؤں کے انگوٹھے میں نور دیا جائے گا، وہ کبھی روشن ہو گا اور کبھی بجھ جایا کرے گا، جب وہ روشن ہو گا تو وہ مومن اس کی روشنی میں چلے گا اور جب بجھے گا تو کھڑا ہو جائے گا، پھر لوگ پل صراط سے گزریں گے۔ پل صراط تلوار کی دھار کی مانند تیز ہے۔ اس پر بہت پھسلن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اپنے اعمال کے مطابق اس سے نجات پائیں گے، کچھ لوگ ستارہ ٹوٹنے کی مقدار میں گزر جائیں گے، کچھ بجلی کی چمک کی مانند گزریں گے، کچھ تیز ہوا کی طرح گزریں گے، کچھ سوار کی طرح اور ہشاش بشاش گزریں گے، الغرض سب اپنے اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے۔ حتی کہ جس آدمی کے انگوٹھے میں نور ہو گا وہ گھسٹ گھسٹ کر گزرے گا، آگ اس کے اعضاء کو جلا دے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لوگ وہاں سے نجات پائیں گے، جب وہاں سے نجات پا کر مڑ کر پل صراط کو دیکھیں گے تو کہیں گے ” اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس سے نجات بخش دی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ نعمت عطا فرمائی ہے جو کبھی کسی کو نہیں دی۔ پھر یہ لوگ جنت کے دروازے کی گزرگاہ کی جانب چلیں گے۔ جنت کا دروازے کی گزرگاہ جنت کے سب سے نچلے درجے میں ہو گی، مومن کہیں گے: اے ہمارے رب ہمیں یہ منزل عطا فرما، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: تم مجھ سے جنت مانگ رہے ہو، وہ تو صرف اس کی گزرگاہ ہے، میں نے تمہیں دوزخ سے بچا لیا ہے۔ یہ دروازہ ہے، وہ لوگ اس کی آوازیں نہیں سنیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ہو سکتا ہے کہ اگر میں تمہیں یہ عطا کر دوں تو تم اس سے آگے اور کوئی سوال کرنے لگ جاؤ گے، بندہ کہے گا: اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم ہے ہم اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں مانگیں گے، اس سے اچھا اور کون سا مقام ہو سکتا ہے جو ہم تجھ سے مانگیں گے، ان کو وہ مقام دے دیا جائے گا، پھر ان کے لیے اس سے آگے ایک اور مقام ظاہر کیا جائے گا، وہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا، جب وہ اس مقام کو دیکھیں گے تو اپنے پہلے والے مقام کو بہت ہی حقیر جانیں گے، (وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے وہ مقام مانگنے لگ جائیں گے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اگر تمہیں وہ مقام دے دیا گیا تو تم اس سے آگے کے مقام کا مطالبہ کرنے لگ جاؤ گے، وہ کہیں گے: اے اللہ ہمیں تیری عزت کی قسم ہے ہم اس کے سوا تجھ سے اور کچھ نہیں مانگیں گے، اور اس سے بڑھ کر خوبصورت کون سی جگہ ہو گی، ان کو وہ مقام عطا کر دیا جائے گا، پھر یہ لوگ خاموش ہو جائیں گے اور کوئی مطالبہ نہیں کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھ سے مانگتے کیوں نہیں ہو؟ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب ہم نے جو کچھ تجھ سے مانگا، تو نے عطا کر دیا، اب ہمیں مانگتے ہوئے حیاء آتی ہے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ جب سے دنیا بنی ہے، اس وقت سے لے کر اس کے فنا ہونے تک جتنی دنیا اور اس کی دولت ہے تمہیں دے دوں اور اس سے دس گنا مزید بھی عطا کر دوں، سیدنا مسروق کہتے ہیں: یہ حدیث سناتے ہوئے جب سیدنا عبداللہ اس مقام پر پہنچے تو ہنسے، ایک آدمی نے ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے یہ حدیث کئی مرتبہ مجھے سنائی، آپ جب بھی اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ضرور ہنستے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ کئی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اس مقام پر پہنچتے تو اس موقع پر اس بندے نے اللہ تعالیٰ کو جو جواب دیا اس پر آپ ضرور ہنستے، اتنا ہنستے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو جاتے، وہ بندہ کہے گا: تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کر رہا ہے؟ اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: نہیں، بلکہ میں واقعی اس پر قادر ہوں، اس لیے تم مجھ سے مانگو، بندے کہیں گے: اے ہمارے رب ہمیں صالحین میں شامل فرما دے، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: ان کو صالحین کے ساتھ ملا دو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ لوگ ٹہلتے ٹہلتے جنت میں چلے جائیں گے، ایک آدمی کو اندر سے خالی موتیوں سے بنا ہوا کا ایک محل دکھائی دے گا، وہ بندہ سجدے میں گر پڑے گا، اس کو کہا جائے گا: اپنا سر اٹھا، وہ سر اٹھائے گا، اس کو کہا جائے گا، یہ تو تیری منازل میں سے ایک منزل ہے، وہ پھر چل پڑے گا، ایک آدمی اس کو سامنے سے ملے گا، بندہ پوچھے گا: کیا تو فرشتہ ہے؟ اس کو بتایا جائے گا کہ یہ تیرے خدام میں سے ایک خادم ہے۔ وہ اس کے پاس آئے گا اور اس کو بتائے گا کہ اس محل میں جو تئرے خادمین ہیں، میں ان میں سے ایک ہوں، میرے ماتحت ایک ہزار خدام ہیں، سب کے سب میری ہی طرح ہیں۔ وہ اس کو اپنے ساتھ لے کر محل کی جانب جائے گا، محل کا دروازہ کھلے گا، پورا محل مجوف موتیوں (ایسے موتی جو اندر سے خالی ہوں، بہت خوبصورت ہوتے ہیں یہ موتی) کا بنا ہوا ہو گا۔ اس کی چھتیں، اس کے دروازے، اس کے تالے، ان کی چابیاں، سب موتیوں کی ہوں گی، محل کا دروازہ کھولا جائے گا، سامنے سبز رنگ کا ہیرا ہو گا، جس کے اندر سرخی ہو گی، اس کی لبمائی چوڑائی ستر ہاتھ ہو گی، اس میں ساٹھ دروازے ہوں گے، ہر دروازہ ایک الگ محل کی جانب کھلتا ہو گا ہر ایک کا رنگ دوسرے سے جدا ہو گا، ہر ایک میں پردے ہوں گے، بیویاں ہوں گی اور خادمائیں ہوں گیں، وہ بندہ اس میں داخل ہو گا، اس کے سامنے حورعین ہو گی، اس نے ستر لباس زیب تن کئے ہوں گے، اس کی پنڈلیوں کی مخ ستر لباسوں کے اوپر سے نظر آ رہی ہو گی، حور کا جگر اس بندے کا آئنہ ہو گا اور بندے کا جگر حور کا آئنہ ہو گا، جب بندہ ایک مرتبہ اس سے نگاہ ہٹا کر دوبارہ دیکھے گا تو وہ پہلے سے ستر گنا زیادہ حسین لگ رہی ہو گی، وہ بندہ کہے گا: تو پہلے سے ستر گنا زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے، اور وہ حور اس بندے کو بھی یہی کہے گی، وہ اپنی ملکیت میں نگاہ کی تیزی کے ساتھ سو سال تک سفر کر سکے گا۔ اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا: اے کعب تم سن نہیں رہے ہو جو ابن ام عبد سب سے کم درجے کے جنتی کے بارے میں بیان کر رہا ہے، تو اندازہ لگایئے کہ سب سے اعلی درجے کے جنتی کا عالم کیا ہو گا۔ انہوں نے کہا: اے امیرالمومنین، جنت ایسی چیز ہے جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ عرش اور پانی کے اوپر ہے، اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ایک گھر بنایا، اس کو اپنی مرضی کی چیزوں سے سنوارا، اس میں پھل رکھے، مشروبات رکھے، پھر اس کو ڈھانپ دیا، جس دن سے اس کو بنایا ہے اس وقت سے اس کی مخلوق نے اس کو نہیں دیکھا نہ جبریل نے دیکھا ہے اور نہ کسی فرشتے نے۔ پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ” تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے “ اس کے علاوہ بھی دو جنتیں بنائی ہیں، ان کو بھی اپنی مرضی کی چیزوں سے مزین کیا ہے، اور اس میں حریر، سندس، اور استبرق رکھا ہے، یہ جنتیں اپنی مخلوقات میں سے جن فرشتوں کو چاہا دکھا دی ہیں، جس کا نامہ اعمال علیین میں ہو گا، اس کو یہ گھر دکھا دیا جائے گا، جب اہل علیین میں سے کوئی بندہ سوار ہو کر اپنی ملکیت میں چلے گا تو وہ جس خیمے کے پاس اترے گا، اس کے چہرے کی چمک اس خیمے میں پڑے گی، وہاں کے رہنے والے اس کی خوشبو سونگھیں گے، اور اس عمدہ خوشبو کی تعریف کریں گے۔ اور کہیں گے آج ہمارے پاس اہل علیین میں سے ایک آدمی آیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے کعب تیرے لئے ہلاکت ہو، یہ دل چھٹ رہے ہیں، ان کو قابو کرو، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیرالمومنین! جہنم کی ایک وادی ایسی ہے کہ کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبی ایسا نہیں جو اپنے گھٹنوں کے بل نہ گرتا ہو، حتی کہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کہیں گے رب نفسی نفسی، حتی کہ اگر تیرے پاس ستر نبیوں کے اعمال بھی ہوں تب بھی مجھے گمان ہے کہ تو اس سے نہیں بچ سکے گا۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، البتہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ابوخالد دالانی کی روایات صحیحین میں نقل نہیں کیں، کیونکہ یہ منقول ہے کہ صحابہ کرام کے ذکر میں یہ سنت سے انحراف کرتے ہیں۔ لیکن تمام ائمہ متقدمین، ابوخالد کے لئے صدق اور اتقان کی گواہی دیتے ہیں۔ اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابوخالد دالانی وہ محدث ہیں جن کی مرویات کو ائمہ اہل کوفہ کی روایات میں جمع کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8966]
حدیث نمبر: 8967
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هِنْد، عن عبد الله بن قيس قال: كنت أرفعُ القضاءَ إلى أبي بُرْدةَ، فكنت عنده فدخل عليه الحارثُ بنُ أُقيشٍ (1) ، وكانت له صُحْبة، فحَدَّث ليلتَئذٍ عن النبي ﷺ قال:"ما من مُسلمين (2) يموت لهما أربعةٌ، إلَّا أدخلهم الله الجنةَ بفَضْل رحمتِه إيَّاهما قلنا: يا رسول الله، وثلاثةٌ؟ قال:"وثلاثةٌ" قلنا: يا رسول الله، واثنانِ؟ قال:"واثنانِ" ثم قال:"إنَّ من أمَّتي لَمَن يُعظَّم للنّار حتى يكونَ أحدَ زواياها، وإنَّ من أمتي لَمَن يَدخُل بشفاعتِه الجنةَ أكثرُ من مُضَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے فیصلے سیدنا ابوبردہ کے پاس لے جایا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں ان کے پاس موجود تھا، ان کے پاس اسی رات حارث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے، وہ صحابی رسول ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ایسے دو مسلمان، جن کے چار بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل سے ان کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تین؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور تین (والا بھی جنت میں جائے گا) ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دو والا (بھی جنت میں جائے گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور دو بھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایسا شخص بھی ہے جس کی شفاعت سے مضر سے بھی زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8967]
حدیث نمبر: 8968
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن مَندَهْ الأصبهاني، حدثنا بكر بن بكَّار، حدثنا جَسْر (4) بن فَرقَد حدثنا الحسن، عن أنس بن مالك قال: سمعت النبي ﷺ يقول:"ناركم هذه جزءٌ من سبعين جزءًا من نار جهنَّم، ولولا أنها غُمِسَت في الماء مرَّتين ما استمتعتُم بها، وايْمُ الله إن كانت لكافيةً، وإنها لَتدعُو الله وتستجيرُ الله أن لا يعيدَها في النار أبدًا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8753 - حسن واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السَّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8753 - حسن واه
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری یہ آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے، اگر اس آگ کو دو مرتبہ پانی سے نہ گزارا گیا ہوتا تو تم اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتے، اور اللہ کی قسم، یہ کافی ہے، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا کرتی ہے کہ اس کو دوبارہ کبھی دوزخ میں واپس نہ ڈالا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8968]
حدیث نمبر: 8969
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج أبي السَّمْح، أنه سمع عبد الله بن الحارث بن جَزْءٍ الزُّبَيدي، صاحبَ النبي ﷺ، يقول عن رسول الله ﷺ:"إنَّ في النار لحيّاتٍ مثلَ أعناق البُخْت، يَلسَعَن أحدَهم اللَّسعةَ فيجدُ حَمْوَها أربعين خريفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8754 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8754 - صحيح
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخ میں بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر سانپ ہیں، یہ کسی کو ایک مرتبہ ڈس لیں تو اس کا درد چالیس سال تک محسوس ہوتا رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8969]