🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. أول سورة قرأها النبي - صلى الله عليه وآله وسلم - على الناس سورة الحج حتى إذا قرأها سجد فسجد الناس
وہ پہلی سورت جسے رسولُ اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے پڑھا سورۃ الحج تھی، پھر جب آپ ﷺ نے اسے پڑھا تو سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسْفاطي، حدثنا مِنجابُ بن الحارث، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدةَ، عن أبيه، عن أبي إسحاق، عن الأسوَد، عن عبد الله قال: أولُ سورةٍ قرأَها رسول الله ﷺ على الناس"الحجُّ"، حتى إذا قرأَها سَجَدَ فسجدَ الناسُ إلّا رجلٌ أخَذَ الترابَ فسجد عليه، فرأيتُه قُتِلَ كافرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين بالإسنادين جميعًا، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن أبي إسحاق عن الأسود عن عبد الله: أنَّ النبي ﷺ قرأَ"والنجم" فذكره بنحوه، وليس يُعلِّل أحدُ الحديثين الآخر، فإني لا أعلم أحدًا تابَعَ شعبةَ على ذكره"النجم" غير قيس بن الرَّبيع (2) ، والذي يؤدِّي إليه الاجتهادُ صحةُ الحديثين، والله أعلم! وقد رُوِيَ بإسنادٍ راويهِ عبد الله بن لَهِيعة أنَّ في سورة الحج سجدتين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 804 - تابعه زكريا بن أبي زائد عن أبي إسحاق على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے پہلی سورت جس میں سجدہ کیا وہ سورہ حج تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو سب نے سجدہ کیا سوائے ایک شخص کے جس نے مٹی پر سجدہ کیا، میں نے اسے کفر کی حالت میں قتل ہوتے دیکھا۔
یہ حدیث دونوں اسناد کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف سورہ نجم والی روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 899]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 899 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل عباس الأسفاطي، والمحفوظ فيه ذِكْر النجم لا الحجِّ كما سبق، وقد ذكر الحافظ ابن حجر في "الفتح" 4/ 223 (بتحقيقنا) أنه وقع في رواية زكريا بن أبي زائدة عند ابن مردويه في "تفسيره": والنجم، على ما هو محفوظ.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) عباس الاسفاطی کی وجہ سے سند قوی ہے، مگر محفوظ وہی ہے کہ یہ سورہ نجم کا واقعہ تھا نہ کہ حج کا۔ ابن حجر نے کہا کہ ابن مردویہ کی روایت میں "نجم" ہی مذکور ہے۔
(2) بل تابعه أيضًا سفيان الثوري وزهير بن معاوية كما تقدم في التعليق على الحديث السابق، وهما ثقتان مشهوران، وأما رواية قيس بن الربيع فلم نقف عليها، وهو مع ذلك فيه ضعف.
🧩 متابعات و شواہد: (2) بلکہ سفیان ثوری اور زہیر بن معاویہ نے بھی ان کی متابعت کی ہے اور وہ دونوں مشہور ثقہ راوی ہیں۔ قیس بن ربیع کی روایت ہمیں نہیں ملی اور وہ ضعیف بھی ہیں۔