🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. نهى رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - إذا جلس الرجل فى الصلاة أن يعتمد على يده اليسرى
رسولُ اللہ ﷺ نے نماز میں بیٹھتے وقت بائیں ہاتھ پر ٹیک لگانے سے منع فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 933
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن محمد، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمَر، عن إسماعيل بن أُميَّة، عن نافع، عن ابن عمر قال: نَهَى رسول الله ﷺ إذا جَلَسَ الرجلُ في الصلاة أن يَعتمِدَ على يده اليسرى. وفي حديث إسحاق: أن يَعتمِدَ الرجلُ على يديه في الصلاة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 837 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں بیٹھے تو اپنے بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، عبد الله بن محمد: هو ابن شيرويه الأزدي، وشيخه إسحاق: هو ابن راهويه» [ترقيم الرساله 933] [ترقيم الشركة 843] [ترقيم العلميه 837]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 933 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. عبد الله بن محمد: هو ابن شيرويه الأزدي، وشيخه إسحاق: هو ابن راهويه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عبداللہ بن محمد سے مراد ابن شیرویہ الازدی اور اسحاق سے مراد ابن راہویہ ہیں۔
وهو في "مصنف عبد الرزاق" (3054)، وفي "مسند أحمد" 10/ (6347)، وفيه عندهما: على يديه في الصلاة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مصنف عبدالرزاق" (3054) اور "مسند احمد" (6347/10) میں موجود ہے اور ان میں "نماز میں ہاتھ پر سہارا لینے" کا ذکر ہے۔
وأخرجه أبو داود (992) عن أحمد بن حنبل وآخرين، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (992) نے امام احمد اور عبدالرزاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (1020) من طريق هشام بن يوسف الصنعاني عن معمر، وزاد فيه: "إنها صلاة اليهود". وهشام ثقة متقن.
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1020) پر ہشام بن یوسف کے طریق سے آئے گی جس میں یہ اضافہ ہے کہ "یہ یہودیوں کی نماز ہے"۔ ہشام ثقہ اور متقن ہیں۔
وأخرج أبو داود (994) من طريق هشام بن سعد، عن نافع، عن ابن عمر: أنه رأى رجلًا يتَّكئ على يده اليسرى وهو قاعد في الصلاة فقال له: لا تجلس هكذا، فإنَّ هكذا يجلس الذين يعذَّبون. هكذا وقفه هشام بن سعد، وهو ممّن يعتبر به على أوهامٍ له.
📖 حوالہ / مصدر: ابوداؤد (994) نے ہشام بن سعد عن نافع عن ابن عمر کی سند سے اسے "موقوف" روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ پر ٹیک لگائے بیٹھے دیکھا تو منع فرمایا: "یہ ان لوگوں کا بیٹھنا ہے جنہیں عذاب دیا جاتا ہے"۔ ہشام بن سعد کی روایت اعتبار کے لائق ہوتی ہے اگرچہ انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
وانظر حديث عمرو بن الشريد عن أبيه الآتي عند المصنف برقم (7896).
🧩 متابعات و شواہد: عمرو بن الشرید عن ابیہ کی حدیث آگے نمبر (7896) پر ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 933 in Urdu