🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
98. نهى أن يصلي الرجل مختصرا
نماز میں ہاتھ کمر پر رکھ کر کھڑے ہونے سے منع فرمایا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يعقوب بن كعب الحَلَبي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن هشام ابن حَسَّان، عن محمد بن سَيرَين، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسول الله ﷺ عن الاختصار في الصلاة (2) . قال أبو عبد الله العَبْدي: وهو أن يَضَعَ الرجلُ يده على خاصرته.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وقد رواه جماعةٌ عن محمد بن سِيريِن عن أبي هريرة أنه قال: نُهِيَ أن يصلِّيَ الرجلُ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 974 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اختصار کرنے سے منع فرمایا۔ ابو عبد اللہ عبدی کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی (نماز میں) اپنے ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 988]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 988 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (947) عن يعقوب بن كعب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (947) نے یعقوب بن کعب کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 12/ (7175) عن محمد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (7175/12) نے محمد بن سلمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 13/ (7897) و (7930) و 14/ (9181)، والبخاري (1220)، ومسلم (545)، والترمذي (383)، والنسائي (966)، وابن حبان (2285) من طرق عن هشام بن حسان، به. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهولٌ منه ﵀.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم میں احمد، بخاری (1220)، مسلم (545)، ترمذی (383)، نسائی اور ابن حبان نے ہشام بن حسان کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا استدراک ان کی بھول ہے۔
وأخرجه البخاري أيضًا (1219) من طريق أيوب السختياني، عن محمد بن سيرين، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1219) نے ایوب السختیانی عن محمد بن سیرین کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔