🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
100. التشهد فى الصلاة
نماز کے تشہد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 999
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد ابن شاكر، حدثنا أبو مَعمَر عبد الله بن عمرو (2) ، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا حسين المعلِّم، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن حَنظَلة بن علي، أنَّ مِحجَنَ بن الأدرَع حدَّثه قال: دَخَلَ رسولُ الله ﷺ المسجدَ فإذا هو برجل قد صلَّى صلاتَه وهو يتشهَّدُ ويقول: اللهمَّ إني أسألُك بالله (3) الأحدِ الصَّمد، الذي لم يَلِدْ ولم يُولَدْ، ولم يكن له كُفُوًا أَحد، أن تَغفِرَ ذُنوبي، إنك أنت الغَفُورُ الرحيم، فقال:"قد غُفِرَ له، قد غُفِرَ له، قد غُفِرَ له" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 985 - على شرطهما
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک شخص نماز پڑھنے کے بعد تشہد میں یہ دعا مانگ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللَّهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» "اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اکیلے اور بے نیاز ہونے کے واسطے سے سوال کرتا ہوں، وہ ذات جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں، کہ تو میرے گناہ بخش دے، بے شک تو ہی بہت بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین بار فرمایا: "اس کی بخشش کر دی گئی ہے، اس کی بخشش کر دی گئی ہے، اس کی بخشش کر دی گئی ہے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 999]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 999 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف "عمرو" في النسخ الخطية إلى: عمر، بإسقاط الواو، وأبو معمر هذا: هو المُقعَد البصري راوية عبد الوارث بن سعيد.
🔍 فنی نکتہ: (2) خطی نسخوں میں "عمر" ہو گیا تھا، درست "عمرو" ہے۔ ابوعمر سے مراد البصری المقعد ہیں جو عبدالوارث کے راوی ہیں۔
(3) هكذا تُقرَأ في أصولنا الخطية، وفي بعض مصادر الحديث: يا اللهُ.
🔍 فنی نکتہ: (3) ہمارے اصل نسخوں میں ایسے ہی ہے، بعض میں "یا اللہ" کے الفاظ ہیں۔
(4) إسناده صحيح. ¤ ¤ وأخرجه أبو داود (985) عن أبي معمر عبد الله بن عمرو، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (4) اس کی سند صحیح ہے۔ اسے ابوداؤد (985) نے بھی اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18974)، والنسائي (1225) و (7618) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد، عن أبيه، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (18974/31) اور نسائی نے عبدالصمد عن ابیہ (عبدالوارث) کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه من حديث عبد الله بن بريدة عن أبيه برقم (1879).
🔁 تکرار: اس طرح کی حدیث حضرت عبداللہ بن بریدہ سے آگے نمبر (1879) پر آئے گی۔