یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند الشافعی سے متعلقہ
3. باب الخروج إلى المصلى ووقته والرجوع والتكبير
عید گاہ کی طرف نکلنے، اس کے وقت، وہاں سے واپسی اور تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 477
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى يَوْمَ الْفِطْرِ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَيُكَبِّرُ بِالْمُصَلَّى حَتَّى إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ تَرَكَ التَّكْبِيرَ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف صبح کو اس وقت جاتے جب سورج طلوع ہو جاتا، وہ عید گاہ میں تکبیرات کہتے یہاں تک کہ جب امام بیٹھ جاتے تو تکبیرات ختم کر دیتے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العيدين والأضاحي والاستسقاء /حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف: لضعف شیخ الشافعى اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1870).»
Musnad Shafi Hadith 477 in Urdu