🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ وَكَفَّارَتِهِ وَإِفْطَارِ مَنْ خَافَتْ عَلَى وَلَدٍ
رمضان میں جماع کے ذریعے روزہ توڑنے والے، اس کے کفارے اور اپنے بچے کی وجہ سے ڈرنے والی عورت کے روزہ چھوڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيَضْرِبُ نَحْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً"؟ قَالَ: لَا. قَالَ:"فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً"؟ قَالَ: لَا. قَالَ:"فَاجْلِسْ". قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ:"فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ"  . قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ اپنے بال نوچ رہا تھا اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا: اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا دوری نے ہلاک کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو اونٹ کی قربانی کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، بیٹھ جا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو محتاج نہیں پاتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھاؤ، اور اس (جماع والے) دن کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس تھیلے میں کتنی کھجوریں تھیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ 15 سے 20 صاع کے درمیان تھیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «صحيح ثبت موصولا من طريق ابن المسيب اخرجه ابن ماجة، الصيام، باب ماجاء في كفارة من أفطر يوما من رمضان (1671) وانظر الحديث السابق برقم (651).» ‏‏‏‏


Musnad Shafi Hadith 652 in Urdu