مسند الشافعی سے متعلقہ
15. بَابُ مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ وَكَفَّارَتِهِ وَإِفْطَارِ مَنْ خَافَتْ عَلَى وَلَدٍ
رمضان میں جماع کے ذریعے روزہ توڑنے والے، اس کے کفارے اور اپنے بچے کی وجہ سے ڈرنے والی عورت کے روزہ چھوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 651
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ:"خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ ثُمَّ قَالَ:"كُلْهُ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَانَ فِطْرُهُ بِجِمَاعٍ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں (جماع سے) روزہ توڑ دیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک گردن آزاد کرنے یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔ اس آدمی نے کہا: ”میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کردو۔“ اس آدمی نے کہا: مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، (جاؤ اور) اسے خود ہی کھا لو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کا روزہ جماع کرنے کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔“ [مسند الشافعی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب اذا جامع في رمضان ولم يكن له شيء فتصدق عليه فليكفر (1936)، (1937) . ومسلم، الصيام، باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم، ووجوب الكفارة .... الخ (1111).»
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيَضْرِبُ نَحْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً"؟ قَالَ: لَا. قَالَ:"فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً"؟ قَالَ: لَا. قَالَ:"فَاجْلِسْ". قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ:"فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ" . قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ اپنے بال نوچ رہا تھا اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا: اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا دوری نے ہلاک کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو اونٹ کی قربانی کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، بیٹھ جا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو محتاج نہیں پاتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھاؤ، اور اس (جماع والے) دن کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس تھیلے میں کتنی کھجوریں تھیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ 15 سے 20 صاع کے درمیان تھیں۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «صحيح ثبت موصولا من طريق ابن المسيب اخرجه ابن ماجة، الصيام، باب ماجاء في كفارة من أفطر يوما من رمضان (1671) وانظر الحديث السابق برقم (651).»
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا، قَالَ: تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ عورت کے متعلق پوچھا گیا کہ جب اسے بچے کا خدشہ ہو تو کیا کرے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دے۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 230/4 وفي المعرفة السنن والآثار له (2488).»