مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ قَوْلِهِ تَعَالَى: لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، وَمَا لَيْسَتْ لَهُ رُخْصَةٌ وَمَا يُكَفَّرُ عَلَيْهِ النَّعَمُ عِنْدَ الْبَيْتِ
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کہ تم شکار کو قتل نہ کرو جب کہ تم احرام کی حالت میں ہو، اور جس کی رخصت نہیں دی گئی اور وہ مویشی جو بیت اللہ کے پاس بطور کفارہ دیے جائیں گے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 880
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: كَانَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ: مَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا غَيْرَ نَاسٍ لِحُرْمِهِ وَلَا مُرِيدًا غَيْرَهُ، فَأَخْطَأَ بِهِ فَقَدْ أَحَلَّ، وَلَيْسَتْ لَهُ رُخْصَةٌ، وَمَنْ قَتَلَهُ نَاسِيًا لِحُرْمِهِ أَوْ أَرَادَ غَيْرَهُ فَأَخْطَأَ بِهِ، فَذَلِكَ الْعَمْدُ الْمُكَفَّرُ عَلَيْهِ النَّعَمُ.
ابن جریج نے کہا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس نے تم میں سے (شکار کو) جان بوجھ کر بغیر بھولے قتل کر دیا اس کے احرام ہوتے ہوئے اور اس (قاتل) کا اس کے علاوہ اور کوئی ارادہ نہیں، تو اس نے غلطی کی اور وہ حلال ہو گیا اور اس کے لیے کوئی رخصت نہیں؛ اور جس نے اس کی حرمت کو یاد نہ رکھتے ہوئے قتل کر دیا یا اس کے علاوہ کسی اور کا ارادہ تھا تو اس سے بھی غلطی ہوئی یہ (غلطی والا) ارادہ ایسا ہے جس پر (اس کی مثل) جانور سے کفارہ ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الحج /حدیث: 880]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (15293).»
Musnad Shafi Hadith 880 in Urdu