🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : اتباع سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: اتباع سنت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے (اللہ کے امر یعنی:) ۱؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 10]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 53 (1920)، الفتن 5 (2889)، سنن الترمذی/الفتن 14 (2176)، 51 (2229)، (تحفة الأشراف: 2102)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن 1 (4252)، مسند احمد (5/34، 35)، سنن الدارمی/الجہاد 38 (2476) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3952) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امر اللہ سے مراد وہ ہوا ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن مرثد الرحبي، أبو أسماء
Newعمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عمرو بن مرثد الرحبي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن بشير الأزدي، أبو هشام، أبو سلمة، أبو عبد الرحمن
Newسعيد بن بشير الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن شعيب القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن شعيب القرشي ← سعيد بن بشير الأزدي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← محمد بن شعيب القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4950
لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خذلهم حتى يأتي أمر الله وهم كذلك
جامع الترمذي
2229
لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين لا يضرهم من يخذلهم حتى يأتي أمر الله
سنن ابن ماجه
10
لا يزال طائفة من أمتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 10 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث10
اردو حاشہ:
حدیث نمبر 6 اور 9 کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 10]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2229
گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں ۱؎، نیز فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2229]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ حکمراں ایسے ہوں گے جو بدعت اور فسق و فجور کے داعی ہوں گے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2229]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4950
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، جو ان کو بے یارومددگار چھوڑے گا، وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا، حتیٰ کہ اللہ کا حکم آن پہنچے اور وہ اس طرح ہوں گے۔ قتیبہ کی حدیث میں هم كذالك [صحيح مسلم، حديث نمبر:4950]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ظاهرين علي الحق:
وہ حق پرقائم رہیں گے،
یاحق کی بنا پر دوسروں پر غالب رہیں گے،
بعض دفعہ قوت وطاقت اور بعض دفعہ دلیل وبراہین سے۔
(2)
خذلهم:
ان کی مددوحمایت نہیں کرےگا،
ان کی مخالفت کرے گا۔
(3)
حتي ياتي امرالله:
یہاں تک کہ اللہ کہ حکم سے ہوا چلے گی جو ہرمومن کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ ہی زندہ بچیں گے اور یہ قیامت کے وقوع کے قریب چلے گی،
اس لیے بعض روایتوں میں حتي تقوم الساعة،
یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
فوائد ومسائل:
ظاهرين علی الحق گروہ سے مراد،
اہل علم اور محدثین اور مجاہدین کا گروہ ہے،
اہل حدیث دین کا علمی دفاع کرتے رہتے ہیں اور مجاہدین عملی طور پر قوت و طاقت اور جہاد کے ذریعہ دفاع کرتے ہیں،
اس لیے جو اہل علم اور مجاہدین اللہ کے دین کے لیے سینہ سپر ہیں،
وہ علمی اور عملی جہاد کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے،
وہی اس کا مصداق ہوں گے۔
اس نے امام احمد،
یزید بن ہارون اور امام بخاری کے نزدیک اس سے مراد،
اہل الحدیث اور اصحاب الحدیث ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4950]